ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- قَاسِطُونَ: ظالم، حق سے بھٹکنے والے، راہِ راست سے ہٹ جانے والے۔
- تَحَرَّوْا: قصد کیا، تلاش کیا، ارادہ کیا۔
- رَشَدًا: ہدایت، بھلائی، راہِ صواب۔
تفسیر:
اس آیت میں جنات کے اس گروہ کا بیان ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی تلاوتِ قرآن سن کر ایمان قبول کیا اور اپنی قوم کو اس کا پیغام پہنچایا۔ وہ کہہ رہے ہیں: "اور یہ کہ ہم میں سے کچھ مسلمان ہیں اور کچھ ہم میں سے قاسط (ظالم) ہیں۔" یعنی جنات کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جو اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے والے، اس کی اطاعت کرنے والے اور اس کے حکموں پر چلنے والے ہیں؛ اور دوسرے وہ جو راہِ حق سے بھٹک گئے، ظلم اور کفر کا راستہ اختیار کیا، اور اللہ کے ساتھ شرک کیا۔
پھر فرمایا: "جو کوئی اسلام لے آئے (یعنی اللہ کی اطاعت اختیار کرے) تو ایسے لوگوں نے ہدایت اور بھلائی کا راستہ تلاش کر لیا اور اسے پا لیا۔" یعنی انہوں نے دانستہ اور ارادتاً راہِ صواب کا انتخاب کیا، اور اللہ نے انہیں اس پر چلنے کی توفیق دی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے لیے بہترین انجام کا سامان کیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہر انسان کے سامنے دو راستے ہیں: ایک راستہ اسلام اور اطاعتِ الٰہی کا، جو کامیابی اور نجات کا راستہ ہے؛ اور دوسرا راستہ ظلم اور سرکشی کا، جو تباہی اور جہنم کا راستہ ہے۔ اللہ نے ہمیں عقل اور اختیار دیا ہے تاکہ ہم خود فیصلہ کریں کہ کس راستے پر چلنا ہے۔ جو لوگ سچے دل سے اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں، وہ ہدایت پاتے ہیں اور ان کی زندگی میں برکت اور سکون آتا ہے۔ آئیے ہم بھی ان مبارک جنات کی طرح اپنے رب کے سامنے سر تسلیم خم کریں، اس کی اطاعت کو اپنائیں، اور اپنے لیے رَشَد (ہدایت) کا راستہ منتخب کریں۔ یاد رکھیں، جو اللہ کی طرف چلتا ہے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
📜 آیت 12-16 — جن
ترجمہ — جن 14
سورہ آیت 14/28 — جن الجن (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: جن سنیں, جن ترجمہ, جن mp3, جن pdf. آیت 12–16. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








