ترجمہ — Tafsir
عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا
معانی الفاظ:
- عَالِمُ الْغَيْبِ: وہ ذات جو تمام پوشیدہ چیزوں کا مکمل علم رکھتی ہے۔
- فَلَا يُظْهِرُ: پس وہ ظاہر نہیں کرتا، یعنی کسی کو مطلع نہیں کرتا۔
- عَلَىٰ غَيْبِهِ: اپنے غیب پر، یعنی اپنے مخصوص علمِ غیب میں سے کسی کو شریک نہیں کرتا۔
- أَحَدًا: کسی ایک کو بھی۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی ذات کے اس عظیم وصف کا ذکر فرمایا ہے کہ وہی اکیلے غیب کا جاننے والا ہے۔ غیب سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو ہمارے حواس اور ادراک سے پوشیدہ ہیں، چاہے وہ مستقبل کے واقعات ہوں، قیامت کا وقت ہو، یا دلوں کے راز اور دیگر پوشیدہ حقائق۔ اللہ رب العزت کا علم ہر چیز کو محیط ہے، اس کی نگاہ سے کوئی ذرہ بھی پوشیدہ نہیں، نہ زمین کی گہرائیوں میں کوئی چیز چھپی ہے اور نہ آسمانوں کی بلندیوں میں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے اس خاص علمِ غیب کو صرف اپنے لیے مخصوص رکھا ہے اور اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی اس پر مکمل طور پر مطلع نہیں فرمایا۔ یہ اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ علمِ غیب اسی کی ذات کے لیے خاص ہے، کیونکہ اگر کسی مخلوق کو اس کا مکمل علم ہو جائے تو وہ اللہ کے ساتھ اس صفت میں شریک ہو جائے گی، جو شرک کے مترادف ہے۔
تاہم، اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے منتخب بندوں یعنی انبیاء و رسل علیہم السلام کو بعض غیبی امور سے آگاہ فرمایا ہے، لیکن یہ بھی اسی کی مشیت اور اجازت سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا: "إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ" یعنی سوائے اس رسول کے جسے اللہ پسند فرمائے۔ یہ استثناء اس بات کو واضح کرتا ہے کہ انبیاء کو جو غیب کی خبریں دی جاتی ہیں، وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہیں، نہ کہ ان کی اپنی ذات سے۔
اس آیت کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ انسان کو اپنے علم پر مغرور نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس کا علم محدود ہے جبکہ اللہ کا علم لامحدود ہے۔ ہمیں ان چیزوں کے بارے میں غور و فکر کرنا چاہیے جو ہمارے سامنے ہیں اور ان پوشیدہ حقیقتوں کو اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے جن کا علم صرف اسی کے پاس ہے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے معاملات میں اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ وہی مستقبل کا جاننے والا ہے۔ جو شخص یقین رکھتا ہے کہ اللہ ہی غیب کا علم رکھتا ہے، وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند نہیں ہوتا، بلکہ اپنے رب کی ذات پر توکل کرتا ہے۔ یہی توکل اور بھروسہ مومن کی پہچان ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے علمِ غیب پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو اپنے رب کی ذات پر مکمل بھروسہ رکھتے ہیں۔ آمین۔
📜 آیت 24-28 — سورہ جن
ترجمہ — جن 26
سورہ جن آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : غیب (کی بات) جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے…سورہ آیت 26/28 — سورہ جن الجن (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ جن سنیں, سورہ جن ترجمہ, سورہ جن mp3, سورہ جن pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 7, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








