ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَیْلٌ: ہلاکت، عذاب شدید اور بربادی۔
- یَوْمَئِذٍ: اُس دن (یعنی قیامت کے دن)۔
- لِلْمُکَذِّبِیْنَ: جھٹلانے والوں کے لیے۔
تفسیرِ آیہ:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اُن لوگوں کے لیے ہلاکت اور شدید عذاب کا اعلان کیا ہے جو اللہ کی قدرت اور اُس کی قادرِ مطلق ہونے کی نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے دوبارہ زندہ کرنے، حساب لینے اور جزا دینے کے وعدے کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اُس دن اُن کے لیے نہ صرف ہلاکت ہے بلکہ خسران اور رسوائی بھی ہے، کیونکہ وہ اپنے کفر اور تکذیب کا پھل بھگتیں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ رب العزت کا سخت ترین انذار ہے تاکہ بندے غفلت سے جاگیں اور اپنے ایمان کا جائزہ لیں۔ یہ اعلان دراصل رحمت کا دروازہ کھولتا ہے کہ اے انسانو! اللہ کی قدرت کو پہچانو، اُس کے وعدوں پر یقین کرو، اور اپنی زندگی کو اُس کی اطاعت میں ڈھالو۔ جو لوگ اللہ کی آیات کو سچا مانیں گے اور اپنے اعمال سنوار لیں گے، وہ اُس دن کی ہلاکت سے محفوظ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار خبردار کیا ہے تاکہ کوئی شخص عذر نہ لا سکے۔ آئیے ہم سب اس تنبیہ کو سنجیدگی سے لیں اور اپنے خالق کے سامنے جھک جائیں، کیونکہ اُس کی قدرت سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں، اور اُس کا وعدہ برحق ہے۔ جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، اُن کے لیے جنت کی خوشخبری ہے، اور جو تکذیب کریں، اُن کے لیے یہی وعید ہے۔ اللہ ہمیں سچائی کو قبول کرنے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 22-26 — مرسلات
ترجمہ — مرسلات 24
سورہ مرسلات آیت 24 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہےسورہ آیت 24/50 — مرسلات المرسلات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مرسلات سنیں, مرسلات ترجمہ, مرسلات mp3, مرسلات pdf. آیت 22–26. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








