انفال · 34/75
ترجمہ تلفظ — انفال
وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا كَانُوا أَوْلِيَاءَهُ ۚ إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ۝٣٤
Wa maa lahum allaa yu`az zibahumul laahu wa hum yasuddoona `anil Masjidil-Haraami wa maa kaanooo awliyaaa`ah; in awliyaaa` uhooo illal muttaqoona wa laakinna aksarahum laa ya`lamoon
📖 اردو ترجمہ
اور (اب) ان کے لیے کون سی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جب کہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یَصُدُّونَ: روکنا، منع کرنا۔
  • أَوْلِیَاءَهُ: اس کے دوست، اس کے متولی اور محافظ۔
  • الْمُتَّقُونَ: پرہیزگار، جو اللہ کے احکام پر عمل کریں اور اس کے منع کردہ کاموں سے بچیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں مشرکینِ مکہ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ انہیں عذابِ الٰہی سے بچنے کا کوئی جواز کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟ وہ خود ایسے اعمال کا ارتکاب کر رہے ہیں جو عذاب کو دعوت دیتے ہیں۔ وہ مسلمان مؤمنین کو مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) میں داخل ہونے، طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے روکتے ہیں۔ یہ انتہائی سنگین جرم ہے، کیونکہ مسجدِ حرام اللہ کا گھر ہے اور وہاں عبادت کے لیے جانا ہر مومن کا حق ہے۔ اس طرح وہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے والے بن گئے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ ان کے اس دعوے کا رد کرتا ہے جو وہ کیا کرتے تھے کہ "ہم بیت اللہ کے متولی اور دوست ہیں، ہم جسے چاہیں اندر آنے دیں اور جسے چاہیں روک دیں۔" اللہ فرماتا ہے کہ یہ لوگ ہرگز مسجدِ حرام کے دوست اور متولی نہیں ہیں۔ اس کے حقیقی دوست اور متولی تو صرف وہ متقی لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں، اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں، شرک سے بچتے ہیں اور گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ یہی لوگ درحقیقت اس گھر کی تعظیم کرتے ہیں اور اس کی حفاظت کے مستحق ہیں۔

لیکن اکثر مشرکین اس حقیقت سے بے خبر ہیں، اسی لیے وہ اپنے بارے میں ایسا دعویٰ کر بیٹھے جو ان کا حق نہیں تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ نسب اور دنیاوی حیثیت کی بنا پر وہ بیت اللہ کے وارث ہیں، حالانکہ اصل معیار تقویٰ اور اللہ کی اطاعت ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک اہم سبق ملتا ہے کہ اللہ کے نزدیک عزت و بزرگی کا معیار نسب، مال یا دنیاوی اقتدار نہیں، بلکہ تقویٰ ہے۔ جو شخص جتنا پرہیزگار ہوگا، اللہ کے قریب اتنا ہی ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو سنواریں، اللہ کے احکام پر عمل کریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں۔ نیز ہمیں کبھی کسی کو اللہ کی عبادت سے روکنے والا نہیں بننا چاہیے، بلکہ لوگوں کو نیکی کی طرف بلانے والا بننا چاہیے۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت اور اس کی حفاظت صرف انہیں حاصل ہوتی ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی راہ پر چلتے ہیں۔ آئیے ہم سب اپنے دلوں کو تقویٰ سے مزین کریں تاکہ ہم اللہ کے حقیقی دوستوں میں شمار ہوں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 32-36 — انفال

32وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
اور جب انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج
33وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ
اور خدا ایسا نہ تھا کہ جب تک تم ان میں سے تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور ایسا نہ تھا کہ وہ بخششیں مانگیں اور انہیں عذاب دے
34وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا كَانُوا أَوْلِيَاءَهُ ۚ إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
اور (اب) ان کے لیے کون سی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جب کہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
35وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِندَ الْبَيْتِ إِلَّا مُكَاءً وَتَصْدِيَةً ۚ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ
اور ان لوگوں کی نماز خانہٴ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو
36إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ ۗ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ
جو لوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لیے (موجب) افسوس ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے
انفالقرآن فہرست
75آیت
مدنیRevelation
34آیت

ترجمہ — انفال 34

سورہ انفال آیت 34 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (اب) ان کے لیے کون سی وجہ ہے کہ…

سورہ آیت 34/75 — انفال الأنفال (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انفال سنیں, انفال ترجمہ, انفال mp3, انفال pdf. آیت 32–36. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں