اور خدا ایسا نہ تھا کہ جب تک تم ان میں سے تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور ایسا نہ تھا کہ وہ بخششیں مانگیں اور انہیں عذاب دے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لِیُعَذِّبَهُمْ: انہیں عذاب میں مبتلا کرے۔
وَأَنتَ فِیهِمْ: جب تک آپ ان کے درمیان موجود ہیں۔
یَسْتَغْفِرُونَ: وہ استغفار کرتے ہیں، اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کرتے ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب فرما رہے ہیں کہ اے محمد! آپ کا وجودِ مسعود ان مشرکین کے لیے عذابِ الٰہی سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ جب تک آپ ان کے درمیان تشریف فرما ہیں، اللہ انہیں ایسے عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا جو انہیں جڑ سے اکھاڑ دے، کیونکہ آپ کی ذاتِ گرامی رحمتِ عالم کا مرکز ہے اور آپ کی موجودگی میں عام عذاب کا نزول ممکن نہیں۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے اپنے نبی کی موجودگی کو امت کے لیے امان بنایا۔
پھر فرمایا کہ اللہ انہیں اس وقت بھی عذاب نہیں دے گا جب وہ استغفار کر رہے ہوں۔ استغفار گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے اور یہ عذاب کو ٹالنے کا سبب بنتا ہے۔ یہاں استغفار سے مراد یا تو وہ توبہ ہے جو کچھ مشرکین اس وقت کرتے تھے، یا پھر یہ مومنین کی استغفار کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ مومنین کا استغفار ان کے درمیان موجود مشرکین کے لیے بھی رحمت کا باعث بنتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو عظیم امانوں کا ذکر فرمایا: ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی، اور دوسری استغفار۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ استغفار کتنی بڑی نعمت ہے! جب بندہ اپنے گناہوں پر نادم ہو کر اللہ سے معافی مانگتا ہے تو اللہ اس پر رحم فرماتا ہے اور اس سے عذاب کو ٹال دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں استغفار کو معمول بنائیں، کیونکہ یہ نہ صرف گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے بلکہ مصیبتوں اور عذاب سے بچاؤ کا بھی سبب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہمارے لیے رحمت ہے، اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنا ہمارے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو استغفار کی برکت سے منور کریں اور اللہ کی رحمت کے طلب گار بنیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور انہیں اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔
اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں اور یہ ہے ہی کیا صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں
اور (اب) ان کے لیے کون سی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جب کہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔