Maa kaana lin nabiyyi wallazeena aamanooo ai yastaghfiroo lilmushrikeena wa law kaanoo ulee qurbaa mim ba`di maa tabiyana lahum annahum Ashaabul jaheem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
نبايد پيامبر و كسانى كه ايمان آوردهاند براى مشركان هر چند از خويشاوندان باشند -پس از آنكه دانستند كه به جهنم مىروند- طلب آمرزش كنند.
پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ: نبی کے لیے مناسب اور زیبا نہیں تھا۔
يَسْتَغْفِرُوا: مغفرت کی دعا کریں۔
لِلْمُشْرِكِينَ: مشرکوں کے لیے۔
أُوْلِي قُرْبَى: رشتہ دار اور قرابت دار۔
تَبَيَّنَ لَهُمْ: ان پر واضح ہو گیا۔
أَصْحَابُ الْجَحِيمِ: دوزخ والے۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ ایک اہم شرعی اصول اور اخلاقی ضابطہ بیان کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ اور اہل ایمان کے لیے یہ زیبا نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کریں، چاہے وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کسی شخص کا انتقال شرک اور کفر کی حالت میں ہو جائے اور یہ بات یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ وہ دوزخ کا مستحق ہے، تو اس کے لیے دعائے مغفرت کرنا نہ صرف بے سود ہے بلکہ اللہ کے فیصلے کے خلاف ہے۔
اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کے لیے دعائے مغفرت کرنا چاہی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرما کر واضح کر دیا کہ جو شخص شرک پر مر جائے، اس کے لیے مغفرت کی دعا جائز نہیں، خواہ وہ کتنا ہی قریبی رشتہ دار ہو۔ یہ حکم محبت الٰہی اور توحید کی پاکیزگی کی انتہائی شکل ہے کہ اللہ کی رضا کو ہر رشتے سے مقدم رکھا جائے۔
اس آیت سے ہمیں چند اہم سبق ملتے ہیں: اول یہ کہ ایمان اور کفر کے درمیان واضح خط امتیاز ہے، اور محض رشتہ داری کی بنیاد پر کسی کافر کے لیے دعائے مغفرت کرنا درست نہیں۔ دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ شرک کو کبھی معاف نہیں فرمائے گا، جیسا کہ قرآن میں ہے: "بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے" (النساء: 48)۔ سوم یہ کہ ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہیے اور اپنے رشتہ داروں کو حق کی دعوت دینی چاہیے، تاکہ وہ شرک سے بچیں اور اللہ کی رحمت کے مستحق بنیں۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہماری محبت اور وفاداری سب سے پہلے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ہونی چاہیے، اور کسی بھی رشتے کو اس محبت پر فوقیت نہیں دینی چاہیے۔ اگر ہم اپنے رشتہ داروں سے سچی محبت رکھتے ہیں تو ان کے لیے بہترین تحفہ یہ ہے کہ انہیں شرک اور کفر سے بچا کر توحید اور ایمان کی طرف لائیں، تاکہ وہ جہنم سے نجات پا سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچی سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں (اور اس کے) عوض ان کے لیے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے۔ جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے
توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک کاموں کا امر کرنے والے، بری باتوں سے منع کرنے والے، خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے، (یہی مومن لوگ ہیں) اور اے پیغمبر مومنوں کو (بہشت کی) خوش خبری سنادو
اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کا سبب تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔