توبہ · 114/129
ترجمہ تلفظ — توبہ
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ ۝١١٤
Wa maa kaanas tighfaaru ibraaheema li abeehi illaa `ammaw `idatinw wa `adahaaa iyyaahu falammaa tabaiyana lahooo annahoo `aduwwul lillaahi tabarra a minh; inna Ibraaheema la awwaahum haleem
📖 اردو ترجمہ
اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کا سبب تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • اَوّٰہ: بہت زیادہ گڑگڑا کر دعا کرنے والا، اللہ کے حضور تضرع اور زاری کرنے والا۔
  • حَلِیم: بردبار، تحمل والا، جو جلد بازی نہ کرے اور لوگوں کی زیادتیوں پر صبر کرے۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس استغفار کی حقیقت واضح فرمائی ہے جو انہوں نے اپنے باپ آزر کے لیے کیا تھا۔ یہ استغفار محض ایک وعدے کی وجہ سے تھا جو حضرت ابراہیم نے اپنے باپ سے کیا تھا۔ انہوں نے اپنے باپ سے کہا تھا: "میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا۔" یہ وعدہ انہوں نے اس امید پر کیا تھا کہ شاید باپ ایمان لے آئے اور ہدایت پا جائے۔

لیکن جب حضرت ابراہیم پر یہ بات واضح ہو گئی کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے، وہ کفر ہی پر مرے گا اور ایمان لانے والا نہیں، تو انہوں نے اس سے براءت کا اعلان کر دیا اور اس کے لیے استغفار کرنا چھوڑ دیا۔ یہ استغفار ان کی طرف سے اپنی طرف سے اجتہاد تھا، نہ کہ کسی حکم الٰہی کی مخالفت۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم کی دو عظیم صفات بیان فرماتا ہے: وہ "اَوّٰہ" ہیں یعنی اللہ کے حضور بہت زیادہ گڑگڑانے والے، دعا اور تضرع کرنے والے، اور "حَلِیم" ہیں یعنی بہت زیادہ بردبار اور تحمل والے، جو لوگوں کی زیادتیوں پر صبر کرتے ہیں اور انہیں معاف کر دیتے ہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں چند اہم سبق ملتے ہیں:

  1. حق کو حق کہنا: حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے عظیم نبی نے جب اپنے باپ کے کفر پر موت کا یقین ہو گیا تو انہوں نے اس سے براءت کا اعلان کیا۔ یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ رشتے داری اور محبت کسی بھی قیمت پر ایمان اور حق پر سمجھوتے کا ذریعہ نہیں بننی چاہیے۔
  2. دعا اور تضرع کی اہمیت: حضرت ابراہیم "اَوّٰہ" تھے یعنی اللہ کے سامنے گڑگڑانے والے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی زندگیوں میں دعا اور اللہ کے سامنے عاجزی کو اپنائیں، کیونکہ یہی بندے کی اصل پہچان ہے۔
  3. بردباری اور تحمل: حضرت ابراہیم "حَلِیم" تھے۔ ہمیں بھی اپنے معاشرے میں بردباری، صبر اور تحمل سے کام لینا چاہیے، لوگوں کی زیادتیوں پر غصہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ درگزر کرنا چاہیے۔
  4. دعوت کا طریقہ: حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کو دعوت دی، نرمی سے سمجھایا، لیکن جب وہ نہ مانا تو انہوں نے اس سے کنارہ کر لیا۔ یہ دعوت کا صحیح طریقہ ہے - پہلے نرمی سے سمجھانا، پھر اگر کوئی نہ مانے تو اس سے علیحدگی اختیار کرنا۔

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام میں رشتوں کی محبت کی کوئی اہمیت نہیں اگر وہ رشتے اللہ کے دین کے خلاف ہوں۔ ہمیں اللہ کی محبت کو سب سے مقدم رکھنا چاہیے، چاہے اس کے لیے ہمیں اپنے قریبی رشتہ داروں سے بھی علیحدگی اختیار کرنی پڑے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 112-116 — توبہ

112التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ
توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک کاموں کا امر کرنے والے، بری باتوں سے منع کرنے والے، خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے، (یہی مومن لوگ ہیں) اور اے پیغمبر مومنوں کو (بہشت کی) خوش خبری سنادو
113مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ
پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں
114وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کا سبب تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے
115وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
اور خدا ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان کو وہ چیز نہ بتا دے جس سے وہ پرہیز کریں۔ بےشک خدا ہر چیز سے واقف ہے
116إِنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۚ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
خدا ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت ہے۔ وہی زندگانی بخشتا ہے (وہی) موت دیتا ہے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے
توبہقرآن فہرست
129آیت
مدنیRevelation
114آیت

ترجمہ — توبہ 114

سورہ توبہ آیت 114 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو…

سورہ آیت 114/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 112–116. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں