حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں ہے کہ خدا کے حکم کے بغیر ایمان لائے۔ اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر وذلت کی) نجاست ڈالتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بِإِذْنِ اللہِ: اللہ کے حکم، علم اور توفیق کے بغیر۔
الرِّجْسَ: عذاب، خواری اور گندگی (یہاں مراد سزا اور رسوائی ہے)۔
لَا یَعْقِلُونَ: جو عقل سے کام نہیں لیتے، اللہ کے حکم اور اس کی نشانیوں پر غور نہیں کرتے۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور انہیں سکھاتا ہے کہ ایمان لانا کسی انسان کے بس کی بات نہیں، نہ یہ محض اس کی اپنی مرضی یا کوشش کا نتیجہ ہے۔ ایمان تو صرف اللہ کے اذن، اس کے علم اور اس کی توفیق سے ہی نصیب ہوتا ہے۔ یعنی جب تک اللہ تعالیٰ خود کسی بندے کے سینے کو کھول کر اسے ہدایت نہ دے، کوئی شخص ایمان نہیں لا سکتا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاہیے کہ کفار کے ایمان نہ لانے پر اپنی جان کو حسرت اور افسوس میں نہ ڈالیں، کیونکہ ہدایت دینا آپ کا کام نہیں، آپ کا کام تو صرف پیغام پہنچانا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ "رجس" یعنی عذاب اور خواری ان لوگوں پر ڈالتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے، جو اللہ کے احکام اور اس کی نشانیوں پر غور و فکر نہیں کرتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی عقل کو سنبھال کر رکھ دیا، حق کو سمجھنے سے انکار کیا اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے رہے۔ ان کے لیے اللہ کے ہاں سخت عذاب اور رسوائی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ ایمان اللہ کا تحفہ ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں ثابت قدم رکھے اور ہمارے دلوں میں ایمان کی روشنی قائم رکھے۔ ساتھ ہی یہ بھی سیکھتے ہیں کہ ہمیں اپنی عقل اور سمجھ کو استعمال کرنا چاہیے، اللہ کی آیات اور اس کے احکام پر غور کرنا چاہیے، تاکہ ہم ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جن پر اللہ کا عذاب اور خواری آتی ہے۔ جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں، وہی حق کو پہچانتے ہیں اور اللہ کی رحمت کے مستحق بنتے ہیں۔ اللہ ہمیں عقل و فکر سے کام لینے کی توفیق دے اور ہمیں ایمان پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا ہاں یونس کی قوم۔ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیاوی سے) ان کو بہرہ مند رکھا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔