Wa Yawma yahshuruhum ka al lam yalbasooo illaa saa`atam minan nahaari yata`aarafoona bainahum; qad khasiral lazeena kazzaboo biliqaaa`il laahi wa maa kaanoo muhtadeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہیں تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑ گئے اور راہ یاب نہ ہوئے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و روزى كه خداوند آنان را در محشر گرد آورد، چنان كه پندارى تنها ساعتى از روز درنگ كردهاند، يكديگر را بشناسند. آنها كه ديدار با خدا را دروغ مىانگاشتند زيان ديدهاند و هدايت نيافتهاند.
اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہیں تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑ گئے اور راہ یاب نہ ہوئے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يَحْشُرُهُمْ: انہیں جمع کرے گا۔
يَلْبَثُوا: قیام کریں، رہیں۔
يَتَعَارَفُونَ: ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔
خَسِرَ: نقصان میں پڑا، گھاٹے میں رہا۔
لِقَاءِ اللَّهِ: اللہ سے ملاقات (یعنی قیامت اور حساب کا یقین)۔
مُهْتَدِينَ: ہدایت یافتہ، راہ راست پانے والے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں قیامت کے اس ہولناک دن کا نقشہ کھینچ رہے ہیں جب وہ تمام لوگوں کو اپنے سامنے جمع کرے گا۔ اس دن کافروں اور مشرکوں کو ایسا محسوس ہوگا جیسے وہ دنیا میں (یا اپنی قبروں میں) بہت کم عرصہ رہے ہوں، صرف دن کی ایک گھڑی بھر۔ وہ ایک دوسرے کو پہچان لیں گے جیسے دنیا میں ایک دوسرے کو جانتے تھے، لیکن یہ پہچان بھی ان کے کسی کام نہ آئے گی، کیونکہ اس دن کی ہولناکیاں اور مصیبتیں انہیں ایسا مبہوت کر دیں گی کہ ایک دوسرے سے کوئی تعلق یا مدد ممکن نہ ہوگی۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقی خسارہ اور نقصان ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اللہ سے ملاقات (یعنی قیامت، حساب اور جزا) کو جھٹلایا۔ انہوں نے دنیا میں اللہ کے رسولوں کی بات نہ مانی، آخرت کے لیے کوئی تیاری نہ کی، اور نہ ہی وہ ہدایت کی راہ پر چلے۔ ان کا انجام نہایت برا ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی عاقبت کو تباہ کر لیا اور اللہ کے عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے، چاہے انسان سو سال بھی جی لے، قیامت کے مقابلے میں وہ ایک گھڑی کے برابر بھی نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اس مختصر سی زندگی کو اللہ کی اطاعت اور اس کی رضا کے لیے صرف کریں، کیونکہ آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔ جو لوگ اللہ سے ملاقات پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے لیے عمل کرتے ہیں، وہ کبھی نقصان میں نہیں رہیں گے، بلکہ وہی کامیاب ہیں۔ آئیے ہم اپنی زندگی کو اللہ کے حکموں کے مطابق ڈھالیں، تاکہ اس دن ہم خسارے میں نہ ہوں، بلکہ اللہ کی رحمت اور جنت کے حقدار بنیں۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہیں تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑ گئے اور راہ یاب نہ ہوئے
اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے (نازل) کریں یا (اس وقت جب) تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔