خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا، نہ ان کی نیکیوں میں کمی کرتا ہے اور نہ ہی ان کی برائیوں میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ تو اپنے فضل و کرم سے نیکیوں کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے اور برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ لیکن افسوس کہ انسان خود اپنے اوپر ظلم ڈھاتا ہے، اپنے ہاتھوں اپنی تباہی مول لیتا ہے۔ جب وہ کفر و شرک کا راستہ اختیار کرتا ہے، اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے، حق کو جھٹلاتا ہے اور باطل پر ضد اور ہٹ دھرمی سے اڑا رہتا ہے، تو درحقیقت وہ اپنے آپ کو ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل رہا ہوتا ہے۔
یہ آیت مومن کے دل میں اللہ کا عظیم تصور پیدا کرتی ہے کہ وہ رب ہے جو ہر معاملے میں عادل اور منصف ہے، اس کی ذات ظلم سے پاک ہے۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ ہمیشہ احسان اور فضل کا معاملہ فرماتا ہے۔ پس اے انسان! تو اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اپنے گناہوں سے توبہ کر، اپنے خالق کے حکموں کی پیروی کر، کیونکہ جو نقصان تجھے پہنچتا ہے وہ تیرے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، اللہ کی طرف سے کوئی زیادتی نہیں۔ اللہ نے تجھے عقل اور سمجھ دی ہے، قرآن اور ہدایت بھیجی ہے، رسولوں کو مبعوث فرمایا ہے، اب یہ تیرا اختیار ہے کہ تو اپنے لیے بھلائی کا راستہ چنتا ہے یا برائی کا۔ اللہ تو چاہتا ہے کہ تو کامیاب ہو جائے، لیکن فیصلہ تیرے اپنے ہاتھ میں ہے۔
اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہیں تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑ گئے اور راہ یاب نہ ہوئے
اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے (نازل) کریں یا (اس وقت جب) تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔