ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مَتَاعٌ: دنیا کا عارضی سامان اور چند روزہ لطف اندوزی۔
- مَرْجِعُهُمْ: ان کا لوٹنا، یعنی موت کے بعد اللہ کی طرف پلٹنا۔
- نُذِيقُهُمُ: ہم انہیں چکھائیں گے، یعنی عذاب کا مزہ انہیں ضرور چکھائیں گے۔
- الْعَذَابَ الشَّدِيدَ: سخت اور دردناک عذاب، جو جہنم کا عذاب ہے۔
تفسیر:
یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اللہ پر افترا باندھتے ہیں، اس کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے کفر و تکذیب پر ڈٹے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ دنیا میں جو کچھ بھی حاصل کر رہے ہیں—چاہے وہ مال ہو، شہرت ہو، عیش و عشرت ہو یا کوئی اور لذت—یہ سب کچھ صرف ایک عارضی متاع ہے، ایک مختصر سا سامان جو چند دنوں کا ہے اور پھر ختم ہو جانے والا ہے۔ یہ متاع انہیں دھوکے میں نہ ڈالے، کیونکہ یہ کوئی دائمی نعمت نہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کا انجام موت ہے، اور موت کے بعد وہ ہماری طرف لوٹ کر آئیں گے۔ کوئی بھی شخص اپنی موت سے بھاگ نہیں سکتا، اور نہ ہی کوئی اپنے رب کے سامنے پیش ہونے سے بچ سکتا ہے۔ جب وہ ہمارے پاس آئیں گے، تو ہم انہیں سخت ترین عذاب کا مزہ چکھائیں گے—یہ عذاب ان کے کفر کی پاداش میں ہوگا، اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور حق کو قبول کرنے سے انکار کیا۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے "نُذِيقُهُمُ" کا لفظ استعمال کیا ہے، جس کا مطلب ہے چکھانا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عذاب صرف دیکھنے یا سننے تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ وہ اسے اپنی جان سے محسوس کریں گے، جیسے کوئی کڑوی چیز چکھ کر اس کی تلخی محسوس کرتا ہے۔ یہ عذاب "شَدِيد" ہے، یعنی نہایت سخت، جس کی شدت کا اندازہ ہم نہیں کر سکتے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے، اور اس کی خوشیاں و لذتیں چند دنوں کی مہمان ہیں۔ جو شخص بھی اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے، اس کی آیات کو جھٹلاتا ہے، یا اپنی زندگی کو صرف دنیا کے حصول میں لگا دیتا ہے، وہ حقیقت میں اپنے آپ کو نقصان میں ڈال رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبردار کیا ہے کہ ہم اس دنیا کے دھوکے میں نہ آئیں، بلکہ اپنی آخرت سنوارنے کی فکر کریں۔
یاد رکھیں، یہ دنیا ایک کھیت ہے، اور آخرت اس کی فصل ہے۔ جو شخص یہاں نیکی کا بیج بوئے گا، وہ آخرت میں کامیابی کی فصل کاٹے گا۔ اور جو کفر و گناہ کا بیج بوئے گا، اسے آخرت میں اسی کا پھل ملے گا۔ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، اس نے ہمیں توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے—آج بھی اگر کوئی شخص اپنے کفر یا گناہوں سے باز آجائے اور اللہ کی طرف رجوع کرے، تو اللہ اسے معاف کر دینے والا ہے۔ لیکن اگر کوئی موت تک اپنے کفر پر قائم رہے، تو پھر اس کا انجام وہی ہوگا جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ ہمیں دنیا کے دھوکے سے بچائے اور آخرت کی کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 68-72 — یونس
ترجمہ — یونس 70
سورہ یونس آیت 70 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (ان کے لیے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر…سورہ آیت 70/109 — یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یونس سنیں, یونس ترجمہ, یونس mp3, یونس pdf. آیت 68–72. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








