کہہ دو جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یفترون: جھوٹ گھڑنا، بہتان باندھنا، من گھڑت بات اللہ کی طرف منسوب کرنا۔
لا یفلحون: کامیاب نہیں ہوتے، فلاح نہیں پاتے، مراد ہے دنیا و آخرت میں نجات اور بھلائی سے محروم رہتے ہیں۔
تفسیر:
اے نبی! آپ ان مشرکین اور منکرین سے فرما دیجیے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں، اس کی ذات کے بارے میں غلط عقیدے رکھتے ہیں، اس کے لیے اولاد ثابت کرتے ہیں یا اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں، وہ کبھی فلاح اور کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ ان کی یہ حرکتیں نہ انہیں دنیا میں کوئی حقیقی فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ آخرت میں ان کے لیے کوئی نجات کا سامان بن سکتی ہیں۔ وہ جو کچھ بھی حاصل کرتے ہیں وہ عارضی اور فانی ہے، لیکن ان کا انجام برا ہے اور وہ اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
یہ ایک سخت تنبیہ ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کے بارے میں جھوٹے عقائد پھیلاتے ہیں اور اپنی من گھڑت باتیں اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ چاہتا ہے کہ لوگ سیدھے راستے پر چلیں، لیکن جو لوگ جان بوجھ کر حق کو چھوڑ کر باطل کو اختیار کرتے ہیں، وہ اپنے نقصان کا سامان خود کرتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ سچائی اور صداقت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے تاکہ ہم حق کو پہچانیں اور اس پر عمل کریں۔ جو لوگ جھوٹ اور بہتان کا راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ چاہے دنیا میں کچھ دیر کے لیے کامیاب نظر آئیں، لیکن حقیقت میں وہ ناکام ہیں۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ سچائی والوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی ملے گی۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو سچائی، ایمان اور نیک اعمال سے آراستہ کریں، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی رحمت اور جنت تک پہنچائے گا۔ اللہ ہمیں سچائی پر ثابت قدم رکھے اور جھوٹ اور بہتان سے بچائے۔ آمین۔
وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور روز روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) جو لوگ (مادہٴ) سماعت رکھتے ہیں ان کے لیے ان میں نشانیاں ہیں
(بعض لوگ) کہتے ہیں کہ خدا نے بیٹا بنا لیا ہے۔ اس کی ذات (اولاد سے) پاک ہے (اور) وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اسی کا ہے (اے افتراء پردازو) تمہارے پاس اس (قول باطل) کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں
(ان کے لیے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو شدید عذاب (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے
اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنادو۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! اگر تم کو میرا تم میں رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے اور پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔