Fakazzaboohu fanajjainaahu wa mamm`ahoo fil fulki wa ja`alnaahum khalaaa`ifa wa aghraqnal lazeena kazzaboo bi aayaatinaa fanzur kaifa kaana `aaqibatul munzareen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
لیکن ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچا لیا اور انہیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو غرق کر دیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیا انجام ہوا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
تكذيبش كردند و ما او و همراهانش را در كشتى برهانيديم و آنان را جانشين پيشينيان ساختيم و كسانى را كه آيات ما را دروغ مىانگاشتند غرقه كرديم. پس بنگر كه عاقبت بيمدادهشدگان چگونه بود.
لیکن ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچا لیا اور انہیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو غرق کر دیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیا انجام ہوا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَكَذَّبُوهُ: انہوں نے (نوح علیہ السلام کو) جھٹلایا۔
الْفُلْکِ: کشتی۔
خَلَائِفَ: جانشین، زمین میں ایک دوسرے کی جگہ لینے والے۔
أَغْرَقْنَا: ہم نے غرق کر دیا (پانی میں ڈبو دیا)۔
الْمُنذَرِینَ: وہ لوگ جنہیں ڈرایا گیا تھا (عذاب سے خبردار کیا گیا تھا)۔
تفسیرِ آیہ:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کا واقعہ بیان فرمایا ہے، جو ہر زمانے کے لوگوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو سینکڑوں سال تک اللہ کی توحید کی دعوت دی، لیکن ان کی قوم نے نہ صرف ان کی دعوت کو رد کیا بلکہ مسلسل تکذیب پر قائم رہی۔ جب انہوں نے حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے کفر و سرکشی پر اصرار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ کشتی تیار کریں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے حضرت نوح علیہ السلام کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو کشتی میں محفوظ فرما لیا، اور انہیں زمین کا جانشین بنایا۔ یعنی کافروں کے ہلاک ہونے کے بعد انہیں زمین پر آباد کیا اور ان کی نسل کو آگے بڑھایا۔ جبکہ جن لوگوں نے اللہ کی نشانیوں اور حجتوں کو جھٹلایا تھا، انہیں طوفان میں غرق کر کے ہلاک کر دیا گیا۔
آخر میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ دیکھیں کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جنہیں ان کے رسول نے عذاب سے ڈرایا تھا مگر انہوں نے نصیحت قبول نہ کی۔ یہ ایک عبرتناک انجام تھا جو ہر اس شخص کے لیے سبق ہے جو حق کو رد کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیتِ کریمہ میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی ہمیشہ حفاظت فرماتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی سخت ہوں۔ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی آج بھی اس بات کی علامت ہے کہ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ ساتھ ہی یہ آیت ہمیں ڈراتی ہے کہ اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانے والوں کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کے احکامات پر عمل کریں اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں، تاکہ ہم بھی اللہ کی رحمت اور حفاظت کے مستحق بنیں۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ صبر اور استقامت کا پھل ہمیشہ کامیابی ہوتی ہے، جیسے نوح علیہ السلام کو صبر کے بعد کامیابی ملی۔
اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنادو۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! اگر تم کو میرا تم میں رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے اور پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو
اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں
لیکن ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچا لیا اور انہیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو غرق کر دیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیا انجام ہوا
پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔