یونس · 74/109
ترجمہ تلفظ — یونس
ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ نَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْمُعْتَدِينَ ۝٧٤
Summma ba`asnaa mim ba`dihee Rusulan ilaa qawmihim fajaaa`oohum bilbaiyinaati famaa kaanoo liyu`minoo bimaa kazzaboo bihee min qabl; kazaalika natba`u `alaa quloobil mu`tadeen
📖 اردو ترجمہ
پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَآءُوهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانُواْ لِيُؤْمِنُواْ بِمَا كَذَّبُواْ بِهِۦ مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ نَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلْمُعْتَدِينَ

معانی الفاظ:

  • بَعَثْنَا: ہم نے بھیجا، مبعوث کیا۔
  • الْبَیِّنَاتِ: واضح دلائل، معجزات اور نشانیاں۔
  • لِیُؤْمِنُوا: ایمان لانے والے نہ تھے، یعنی ان کا ایمان لانا ممکن نہ تھا۔
  • نَطْبَعُ: ہم مہر لگا دیتے ہیں، بند کر دیتے ہیں۔
  • الْمُعْتَدِین: حد سے تجاوز کرنے والے، ظلم و سرکشی کرنے والے۔

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد ہم نے ان کی قوم کے بعد دوسری قوموں کی طرف اپنے رسول بھیجے، جیسے حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت ابراہیم، حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہم السلام وغیرہ۔ ہر رسول اپنی قوم کے پاس واضح معجزات اور روشن دلائل لے کر آیا، جو اس کی رسالت کی سچائی اور اس کی دعوت کی صداقت پر گواہ تھے۔

لیکن افسوس! ان قوموں کا حال یہ تھا کہ وہ پہلے سے حق کو جھٹلانے کے عادی ہو چکے تھے۔ ان کے دلوں میں کفر اور انکار اس طرح گہرا بیٹھ گیا تھا کہ رسولوں کے پاس معجزات آ جانے کے باوجود بھی وہ ایمان لانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ ان کی پہلے کی تکذیب اور سرکشی نے ان کے دلوں کو اس قدر سخت کر دیا تھا کہ ہدایت کی کوئی بات ان کے اندر اثر نہیں کرتی تھی۔

یہ اللہ کا قاعدہ ہے کہ جب بندہ حق کو جھٹلاتا ہے اور حد سے تجاوز کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں، یعنی اس کے دل میں نیکی اور حق کی قبولیت کا دروازہ بند کر دیتے ہیں۔ یہ مہر لگانا اللہ کا ظلم نہیں، بلکہ خود بندے کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ جب انسان ضد اور سرکشی پر اڑ جاتا ہے اور حق کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے تو اللہ اسے اس کی ضد پر چھوڑ دیتے ہیں، اور اس کا دل حق قبول کرنے سے محروم ہو جاتا ہے۔

یہ آیت ہمارے لیے ایک بہت بڑی نصیحت اور ڈر ہے کہ ہم حق کو قبول کرنے میں دیر نہ کریں، اپنے دلوں کو سخت نہ ہونے دیں، اور ضد اور تکبر سے بچیں۔ کیونکہ اگر دل ایک بار سخت ہو گیا اور اللہ نے اس پر مہر لگا دی تو پھر ہدایت کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی کسی قوم کو بغیر تنبیہ کے نہیں چھوڑا۔ ہر دور میں رسول آئے، معجزے دکھائے، لوگوں کو سیدھا راستہ دکھایا۔ لیکن جن لوگوں نے ضد کی، ان کا انجام یہ ہوا کہ ان کے دل بند کر دیے گئے۔ آج بھی اللہ کا قرآن ہمارے سامنے ہے، اس میں ہر قسم کی ہدایت موجود ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو نرم رکھیں، قرآن کی آیات پر غور کریں، اور جو بھی حق بات سمجھ میں آئے اسے فوراً قبول کریں۔ یاد رکھیں! دل کی سختی سب سے بڑی بیماری ہے، اور اس کا علاج اللہ کے ذکر اور قرآن کی تلاوت میں ہے۔ اللہ ہمیں اپنے دلوں کو نرم رکھنے اور حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 72-76 — یونس

72فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں
73فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَمَن مَّعَهُ فِي الْفُلْكِ وَجَعَلْنَاهُمْ خَلَائِفَ وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنذَرِينَ
لیکن ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچا لیا اور انہیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو غرق کر دیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیا انجام ہوا
74ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ نَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْمُعْتَدِينَ
پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں
75ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَارُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے
76فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا إِنَّ هَٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِينٌ
تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے
یونسقرآن فہرست
109آیت
مکیRevelation
74آیت

ترجمہ — یونس 74

سورہ یونس آیت 74 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی…

سورہ آیت 74/109 — یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یونس سنیں, یونس ترجمہ, یونس mp3, یونس pdf. آیت 72–76. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں