Fa in tawallaitum famaa sa altukum min ajrin in ajriya illaa `alal laahi wa umirtu an akoona minal muslimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و اگر پشت كرديد، من از شما هيچ پاداشى نخواستهام، كه پاداش من با خداست و من مأمور شدهام كه از تسليمشدگان باشم.
اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تَوَلَّيْتُمْ: تم نے میری دعوت سے منہ موڑ لیا، اعتراض کیا یا پیٹھ پھیر لی۔
أَجْرٍ: اجرت، معاوضہ، بدلہ۔
إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ: میرا ثواب اور بدلہ صرف اللہ کے ذمے ہے۔
الْمُسْلِمِينَ: اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرنے والے، اطاعت گزار بندے۔
تفسیر:
اے لوگو! اگر تم میری اس نصیحت اور دعوت سے منہ موڑ لو تو جان لو کہ میرا تم سے کوئی دنیاوی مطالبہ نہیں۔ میں نے تم سے کوئی اجرت یا معاوضہ طلب نہیں کیا کہ جس کی وجہ سے تم مجھ سے نفرت کرو یا میری بات سننے سے گریز کرو۔ میرا اجر اور ثواب تو صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، وہی مجھے جزا دینے والا ہے، چاہے تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ۔ میرا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچانا ہے، اور اس کا بدلہ میں نے اسی رب سے طے کر رکھا ہے، نہ کہ تم سے۔
میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ان بندوں میں سے ہوں جو مکمل طور پر اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں، جو اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی پر قربان کر دیں، اور جو اپنے آپ کو اللہ کی اطاعت اور عمل صالح کے لیے وقف کر دیں۔ میں نے یہ راستہ اختیار کیا ہے، اور اسی پر قائم رہوں گا، چاہے تم قبول کرو یا انکار۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دین کی دعوت اور تبلیغ کا مقصد کبھی دنیاوی فائدہ یا مال و زر حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ ایک سچا داعی اور مبلغ وہی ہے جو خالص اللہ کی رضا کے لیے کام کرے، بغیر کسی دنیاوی طمع کے۔ جب انسان کا مقصد صرف اللہ کی خوشنودی ہو تو اس کی دعوت میں خلوص پیدا ہوتا ہے، اور لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ اسلام کا راستہ ہی سکون اور کامیابی کا راستہ ہے۔ جو لوگ اللہ کے حکم کے سامنے جھک جاتے ہیں، اللہ انہیں عزت دیتا ہے اور ان کے دل میں سکون پیدا کرتا ہے۔ آئیے ہم بھی اپنے رب کے سامنے سر تسلیم خم کریں، اپنے اعمال کو خالص اللہ کے لیے بنائیں، اور اپنی زندگیوں کو اسلام کی روشنی میں ڈھالیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی دلاتا ہے۔
(ان کے لیے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو شدید عذاب (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے
اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنادو۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! اگر تم کو میرا تم میں رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے اور پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو
اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں
لیکن ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچا لیا اور انہیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو غرق کر دیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیا انجام ہوا
پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔