یونس · 85/109
ترجمہ تلفظ — یونس
فَقَالُوا عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ۝٨٥
Faqaaloo `alal laahi tawakkalnaa Rabbanaa laa taj`alnaa fitnatal lilqawmiz zaalimeen
📖 اردو ترجمہ
تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال
📜

ترجمہ — Tafsir

فَقَالُوا عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

معانی الفاظ:

  • تَوَكَّلْنَا: ہم نے بھروسہ کیا، اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دیے۔
  • فِتْنَةً: آزمائش، مصیبت، یا وہ چیز جس سے انسان دین سے بھٹک جائے۔
  • الظَّالِمِينَ: ظلم کرنے والے، جو حد سے تجاوز کرنے والے ہوں۔

تفسیر:

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے مخلص مؤمنین کو فرعون اور اس کے ظالم لشکر کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی دعوت دی، تو انہوں نے بے مثال جرات اور ایمانی بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے کہا: "ہم نے اللہ پر توکل کیا" یعنی ہم نے اپنے تمام معاملات، اپنی جان، اپنا دین اور اپنی کامیابی کو صرف اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔ یہ توکل محض زبانی دعویٰ نہیں تھا، بلکہ ان کے دلوں میں اللہ پر کامل یقین اور بھروسہ تھا، کیونکہ وہ مخلص مؤمن تھے۔

پھر انہوں نے ایک انتہائی اہم دعا کی: "اے ہمارے رب! ہمیں ظالم قوم کے لیے آزمائش نہ بنا۔" اس دعا میں دو پہلو ہیں: ایک یہ کہ اے اللہ! ہمیں ان ظالموں کے ہاتھوں مغلوب اور ذلیل نہ کر، کیونکہ اگر وہ ہم پر غالب آ گئے اور ہمیں عذاب دیا، تو وہ یہ سمجھیں گے کہ ہم حق پر نہیں تھے، اور یوں وہ اپنے کفر و ظلم میں مزید بڑھ جائیں گے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اے اللہ! ہمیں اس حال میں نہ ڈال کہ ہم ان کے ظلم اور اذیت سے تنگ آ کر دین سے پھر جائیں، یا ان کے دباؤ میں آ کر ایمان سے محروم ہو جائیں۔ یہ دعا دراصل ان کے ایمان کی گہرائی اور اللہ سے ان کی محبت کا اظہار ہے کہ وہ اپنی جان کی حفاظت سے زیادہ اپنے دین اور ایمان کی سلامتی کے خواہاں تھے۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکل حالات میں بھی مومن کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ جب کوئی طاقت ہمارے ایمان کو ڈھانے کے لیے کھڑی ہو، تو ہمیں اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اس سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں آزمائش میں نہ ڈالے۔ یہ توکل کا سبق ہے کہ اللہ ہی اصل مددگار ہے، اور یہ دعا کا سبق ہے کہ ہمیں اپنے دین کی حفاظت کے لیے ہمیشہ اللہ سے التجا کرنی چاہیے۔ اللہ اپنے بندوں کو کبھی ذلیل نہیں کرتا جو اس پر بھروسہ کریں، اور وہ انہیں ہمیشہ راہ نجات دکھاتا ہے۔ یہی وہ ایمانی قوت ہے جو ہر دور میں مسلمانوں کو ظالموں کے سامنے ڈٹے رہنے کی طاقت دیتی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 83-87 — یونس

83فَمَا آمَنَ لِمُوسَىٰ إِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّن قَوْمِهِ عَلَىٰ خَوْفٍ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ ۚ وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِينَ
تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا۔ مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے۔ اور فرعون ملک میں متکبر ومتغلب اور (کبر وکفر) میں حد سے بڑھا ہوا تھا
84وَقَالَ مُوسَىٰ يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ
اور موسیٰ نے کہا کہ بھائیو! اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اگر (دل سے) فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسہ رکھو
85فَقَالُوا عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال
86وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
اور اپنی رحمت سے قوم کفار سے نجات بخش
87وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ وَأَخِيهِ أَن تَبَوَّءَا لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًا وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ
اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لیے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھہراؤ اور نماز پڑھو۔ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو
یونسقرآن فہرست
109آیت
مکیRevelation
85آیت

ترجمہ — یونس 85

سورہ یونس آیت 85 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسہ رکھتے…

سورہ آیت 85/109 — یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یونس سنیں, یونس ترجمہ, یونس mp3, یونس pdf. آیت 83–87. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں