اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے اور جو اسے رسوا کرے گا اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یُخْزِیهِ: اسے ذلیل و رسوا کرے گا۔
یَحِلُّ عَلَیْهِ: اس پر نازل ہوگا۔
عَذَابٌ مُّقِیمٌ: دائمی اور ہمیشہ رہنے والا عذاب۔
تفسیر آیت:
اے نبی کریم ﷺ! آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے جو حق کو جھٹلا رہے ہیں اور آپ کی دعوت کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ عنقریب تمہیں خود معلوم ہو جائے گا جب اللہ کا عذاب آئے گا۔ تم دیکھ لو گے کہ وہ کون شخص ہے جس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے دنیا میں ذلیل و خوار کر دے گا، اور پھر آخرت میں اس پر ایسا دائمی عذاب نازل ہوگا جس کا کوئی خاتمہ نہ ہوگا۔
یہ وہی عذاب ہے جو حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر طوفان کی صورت میں آیا۔ جس نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی وہ غرق ہو کر رسوا ہوا، اور آخرت کا عذاب اس کے لیے ہمیشہ کے لیے مقدر ہو گیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں ایک اہم سبق سکھاتا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے اور رسولوں کی دعوت کو جھٹلانے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے مگر پھر انہیں پکڑ لیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکامات پر عمل کریں اور اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، کیونکہ دنیا کا عذاب تو وقتی ہے مگر آخرت کا عذاب دائمی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو معاف کر دیتا ہے، لیکن اصرار بر گناہ کرنے والوں کے لیے اس کا عذاب بہت سخت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کے احکامات کو مقدم رکھیں اور اس کی نافرمانی سے بچیں تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔
تو نوح نے کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے۔ وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اس طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا تو ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور۔ ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجائے گا) اس کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو جو ایمان لایا ہو اس کو کشتی میں سوار کر لو اور ان کے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔