Hattaaa izaa jaaa`a amrunaa wa faarat tannooru qulnah mil feehaa min kullin zawjainis naini wa ahlaka illaa man sabaqa `alaihil qawlu wa man aaman; wa maaa aamana ma`ahooo illaa qaleel
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا تو ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور۔ ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجائے گا) اس کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو جو ایمان لایا ہو اس کو کشتی میں سوار کر لو اور ان کے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون فرمان ما فراز آمد و تنور جوشيد، گفتيم: از هر نر و ماده دو تا و نيز خاندان خود را در كشتى بنشان -مگر آن كس را كه حكم در بارهاش از پيش صادر شده باشد- و نيز آنهايى را كه به تو ايمان آوردهاند. و جز اندكى به او ايمان نياورده بودند.
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا تو ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور۔ ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجائے گا) اس کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو جو ایمان لایا ہو اس کو کشتی میں سوار کر لو اور ان کے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَارَ التَّنُّورُ: تنور (جس میں روٹی پکائی جاتی ہے) سے پانی کا زور سے ابلنا اور جوش مارنا۔
زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ: ہر قسم کے جانوروں کا نر اور مادہ۔
سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ: جس پر عذاب کا فیصلہ پہلے صادر ہو چکا ہو۔
تفسیر آیت:
حضرت نوح علیہ السلام نے جب اللہ کے حکم سے کشتی تیار کر لی، تو پھر وہ لمحہ آیا جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے دیا تھا۔ جب ہمارا حکم عذاب کا آگیا اور تنور سے پانی ابلنے لگا، جو طوفان کے آغاز کی نشانی تھی۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اب زمین پر اللہ کا عذاب نازل ہونے والا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ کشتی میں ہر قسم کے جانوروں کا ایک جوڑا (نر اور مادہ) لے لیں، تاکہ نسل باقی رہ سکے۔ نیز اپنے گھر والوں کو بھی ساتھ لے لیں، سوائے ان لوگوں کے جن پر عذاب کا فیصلہ پہلے صادر ہو چکا تھا، جیسے ان کا بیٹا کنعان اور بیوی جو ایمان نہیں لائے تھے۔ اور ان تمام مومنین کو بھی کشتی میں سوار کر لیں جو آپ پر ایمان لائے تھے۔ مگر افسوس کہ حضرت نوح علیہ السلام کی طویل دعوت کے باوجود ان کی قوم میں سے بہت کم لوگ ایمان لائے تھے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے اور انہیں عذاب سے نجات دیتا ہے، بشرطیکہ وہ ایمان اور اطاعت پر قائم رہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام نے 950 سال تک اپنی قوم کو دعوت دی، لیکن صرف تھوڑے لوگ ہی ایمان لائے۔ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حق پر قائم رہنا چاہیے، چاہے لوگ کم ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کی رحمت اور نصرت ہمیشہ مومنین کے ساتھ ہوتی ہے۔ آج بھی اگر ہم اللہ کے احکامات پر عمل کریں اور اپنے ایمان کو مضبوط رکھیں تو اللہ ہمیں ہر مصیبت اور آزمائش سے نجات دے گا۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ حقیقی کامیابی اللہ کے حکم کی پیروی میں ہے، چاہے دنیا کے لوگ ہم پر ہنسیں یا ہمیں کمزور سمجھیں۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
تو نوح نے کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے۔ وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اس طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا تو ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور۔ ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجائے گا) اس کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو جو ایمان لایا ہو اس کو کشتی میں سوار کر لو اور ان کے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے
اور وہ ان کو لے کر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی۔ (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ جو (کشتی سے) الگ تھا، پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔