ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بَیِّنَة: واضح دلیل، روشن حجت، معجزہ۔
- آلِهَتِنَا: ہمارے معبود، ہمارے دیوتا۔
- عَن قَوْلِكَ: تیرے کہنے سے، تیری بات کی وجہ سے۔
- مُؤْمِنِین: تصدیق کرنے والے، ایمان لانے والے۔
تفسیر:
جب حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور انہیں شرک اور بت پرستی سے باز رہنے کی تلقین کی، تو ان کی قوم نے سرکشی اور ضد کے ساتھ جواب دیا۔ انہوں نے کہا: "اے ہود! تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور روشن معجزہ لے کر نہیں آئے جو تمہارے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہو۔ تم صرف زبانی دعویٰ کرتے ہو کہ تم اللہ کے رسول ہو، لیکن تم نے کوئی ایسی نشانی پیش نہیں کی جو ہمیں تمہاری بات ماننے پر مجبور کر دے۔"
پھر انہوں نے سختی کے ساتھ کہا: "اور ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے، خواہ تم کتنا ہی کہو۔ ہم اپنے آباء و اجداد کے طریقے پر قائم ہیں، اور ہم اپنے دیوتاؤں کی عبادت ترک نہیں کریں گے، صرف تمہارے کہنے کی وجہ سے۔ تمہاری بات ہمارے لیے کوئی دلیل اور ثبوت نہیں رکھتی۔"
آخر میں انہوں نے صاف صاف کہہ دیا: "اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ ہم تمہاری بات کو نہیں مانتے، نہ تمہارے دعوے کو سچا جانتے ہیں، اور نہ ہی تمہاری پیروی کریں گے۔"
یہ جواب قومِ عاد کی ہٹ دھرمی، تکبر اور حق سے بے اعتنائی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے دلیل مانگنے کے باوجود، جب دلیل آئی تو اسے قبول نہ کیا۔ اصل میں ان کا مسئلہ دلیل کا نہیں تھا، بلکہ ان کے دلوں میں تکبر اور اپنی باطل روایات سے محبت تھی۔ وہ حق کو سن کر بھی اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ حق کی دعوت دیتے وقت صبر اور استقامت ضروری ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کی اس سخت مخالفت کے باوجود اپنی دعوت جاری رکھی، اور اللہ پر بھروسہ نہیں چھوڑا۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ کچھ لوگ دلیل اور ثبوت کے باوجود حق قبول نہیں کرتے، کیونکہ ان کے دل سخت ہو چکے ہوتے ہیں اور وہ اپنی خواہشات اور آباء و اجداد کی تقلید پر جمے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے افسوس ہے، کیونکہ وہ اپنے نقصان کا سامان خود کرتے ہیں۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم حق کو قبول کرنے میں جلدی کریں، اور جب کوئی شخص قرآن اور سنت کی روشنی میں ہمیں سچائی کی دعوت دے، تو ہم تعصب اور ضد سے کام نہ لیں، بلکہ کھلے دل سے غور کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم حق کو باطل سے ممیز کریں، اور اس عقل کو استعمال کرتے ہوئے حق کو قبول کریں۔
یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ہدایت انہیں لوگوں کو ملتی ہے جو حق کے طالب ہوتے ہیں، نہ کہ انہیں جو ضد اور تکبر کے ساتھ حق سے منہ موڑتے ہیں۔ ہم دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق دے اور ہمارے دلوں کو سختی اور ضد سے پاک فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 51-55 — ہود
ترجمہ — ہود 53
سورہ ہود آیت 53 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ بولے ہود تم ہمارے پاس کوئی دلیل ظاہر نہیں…سورہ آیت 53/123 — ہود هود (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ہود سنیں, ہود ترجمہ, ہود mp3, ہود pdf. آیت 51–55. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








