ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْوَسْوَاسِ: وسوسہ ڈالنے والا، یعنی شیطان جو دل میں برے خیالات ڈالتا ہے۔
- الْخَنَّاسِ: پیچھے ہٹنے والا، چھپ جانے والا، جو اللہ کا ذکر سن کر بھاگ جائے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہم اس کے پناہ مانگیں "اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو پیچھے ہٹ جانے والا ہے۔" یعنی شیطان جو انسان کے دل میں برے خیالات اور وسوسے ڈالتا ہے، جب انسان اللہ کی یاد سے غافل ہوتا ہے تو شیطان اس پر حملہ آور ہوتا ہے اور اس کے دل میں برے خیالات پیدا کرتا ہے۔ لیکن جیسے ہی انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے، شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے اور چھپ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے "خناس" کہا گیا ہے، کیونکہ وہ اللہ کے ذکر کے سامنے جھک جاتا ہے اور بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں پناہ مانگنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھے، کیونکہ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار وسوسہ ہے جو ایمان کو کمزور کرتا ہے اور انسان کو گناہوں کی طرف لے جاتا ہے۔
فوائد:
- یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ شیطان کے وسوسوں سے بچنے کا سب سے مؤثر ذریعہ اللہ کی پناہ مانگنا ہے، نہ کہ اپنی طاقت پر بھروسہ کرنا۔
- اللہ کا ذکر شیطان کو بھگانے کا بہترین ہتھیار ہے۔ جب انسان اللہ کو یاد کرتا ہے تو شیطان اس سے دور بھاگتا ہے، جیسے آیت میں "خناس" کا ذکر ہے۔
- یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ وسوسے آنا کوئی عیب نہیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم ان وسوسوں کا مقابلہ کریں اور اللہ کی پناہ مانگیں۔
- اس آیت سے محبت پیدا ہوتی ہے کہ اللہ نے ہمیں شیطان کے شر سے بچانے کے لیے یہ دعا سکھائی ہے، جو اس کی رحمت اور شفقت کا ثبوت ہے۔
📜 آیت 2-6 — ناس
ترجمہ — ناس 4
سورہ ناس آیت 4 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (شیطان) وسوسہ انداز کی برائی سے جو (خدا کا نام…سورہ آیت 4/6 — ناس الناس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ناس سنیں, ناس ترجمہ, ناس mp3, ناس pdf. آیت 2–6. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








