ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَعَرَفَهُمْ: یوسف علیہ السلام نے انہیں پہچان لیا۔
- مُنکِرُونَ: نہ پہچاننے والے، انکار کرنے والے۔
تفسیر:
یہ وہ لمحہ تھا جب اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی یوسف علیہ السلام کی آزمائشوں کا سلسلہ ختم ہونے کو تھا اور ان کی عظمت کا ظہور ہو رہا تھا۔ قحط سالی نے کنعان کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور یوسف علیہ السلام کے بھائی، جنہوں نے انہیں کنویں میں ڈالا تھا اور پھر جھوٹ بول کر باپ کو دھوکہ دیا تھا، مجبوراً مصر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ غلہ حاصل کر سکیں۔ وہ اس وقت مصر کے عزیز (وزیر خزانہ) کے سامنے پیش ہوئے، جو دراصل ان کا بھائی یوسف علیہ السلام تھا۔
یوسف علیہ السلام نے انہیں فوراً پہچان لیا، کیونکہ ان کی بصیرت اور علم میں کوئی کمی نہیں تھی، لیکن بھائیوں نے انہیں نہ پہچانا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب وہ ان سے جدا ہوئے تھے تو یوسف ایک کم سن لڑکے تھے، اور اب کئی سال گزر جانے کے بعد وہ ایک باوقار، طاقتور اور شاہانہ لباس میں ملبوس وزیر کی حیثیت سے سامنے تھے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کبھی یہ گمان بھی نہیں کیا تھا کہ ان کا بھائی، جسے انہوں نے کنویں میں ڈالا تھا، اتنی بلند مرتبہ تک پہنچ سکتا ہے۔
یہ منظر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک شاہکار ہے۔ جس بھائی کو انہوں نے ذلیل کرنے کے لیے کنویں میں ڈالا تھا، اللہ نے اسے عزت و وقار کی بلندیوں پر پہنچا دیا، اور وہی لوگ جو اس کے دشمن تھے، آج اس کے سامنے حاجت مند بن کر کھڑے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوا، اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی کبھی مدد نہیں چھوڑتا، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے آگے کوئی طاقت نہیں چل سکتی۔ یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے کنویں میں ڈالا، لیکن اللہ نے انہیں عزت کے تخت پر بٹھایا۔ دوسرے، یہ کہ صبر اور تقویٰ کا نتیجہ ہمیشہ کامیابی ہوتی ہے۔ یوسف علیہ السلام نے اپنی پوری زندگی صبر اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے گزاری، اور آخر کار اللہ نے انہیں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی عطا فرمائی۔ تیسرے، یہ کہ ہمیں کبھی کسی کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ اللہ جسے چاہتا ہے بلند کر دیتا ہے۔ یہ قصہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اگر کوئی ہمارے ساتھ برا کرے تو ہمیں معاف کرنے کا حوصلہ رکھنا چاہیے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا، حالانکہ ان کے پاس انتقام لینے کا پورا اختیار تھا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صبر، عفو اور درگزر کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں یوسف علیہ السلام کی طرح اللہ پر کامل بھروسہ کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 56-60 — یوسف
ترجمہ — یوسف 58
سورہ یوسف آیت 58 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے…سورہ آیت 58/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 56–60. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








