یوسف · 76/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاءِ أَخِيهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَاءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ ۝٧٦
Fabada-a bi-aw`iyatihim qabla wi`aaa`i akheehi summas takhrajahaa minw wi `aaa`i akheeh; kazaalika kidnaa li Yoosuf; maa kaana liyaakhuza akhaahu fee deenil maliki illaaa any yashaaa`al laah; narfa`u darajaatim man nashaaa`; wa fawqa kulli zee `ilmin `Aleem
📖 اردو ترجمہ
پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أوعیتهم: ان کے سامان کے تھیلے، برتن یا ظرف۔
  • وعاء أخیه: اس کے بھائی (بنیامین) کا تھیلا یا برتن۔
  • استخرجها: اسے (پیمانہ/صاع) نکالا۔
  • كدنا: ہم نے تدبیر کی، چالاکی سکھائی، یا منصوبہ بنایا۔
  • دین الملک: بادشاہِ مصر کا قانون اور حکم۔
  • نرفع درجات: ہم بلند کرتے ہیں درجے۔
  • فوق كل ذي علم عليم: ہر صاحبِ علم سے اوپر ایک اور علم والا ہے۔

تفسیر:

جب یوسف علیہ السلام کے بھائی اپنے بھائی بنیامین کو لے کر مصر واپس آئے، تو یوسف علیہ السلام نے خود اپنے ہاتھوں سے ان کے سامان کی تلاشی لینے کا اہتمام کیا۔ انہوں نے دانستہ طور پر پہلے اپنے دوسرے بھائیوں کے تھیلے تلاش کیے، تاکہ کسی کو شبہ نہ ہو کہ وہ بنیامین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ جب سب کے تھیلے صاف نکلے، تو آخر میں بنیامین کے تھیلے کی باری آئی، اور وہاں سے وہ پیمانہ (صاعِ ملک) برآمد ہوا جسے یوسف علیہ السلام نے خود اپنے بھائی کے سامان میں رکھوایا تھا۔

یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یوسف علیہ السلام کے لیے ایک خاص تدبیر تھی۔ اللہ نے انہیں یہ طریقہ سکھایا اور وحی کے ذریعے رہنمائی فرمائی، تاکہ وہ اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس روک سکیں۔ ورنہ بادشاہِ مصر کے قانون کے مطابق، چوری کی سزا صرف جرمانہ یا کوڑے مارنا تھی، نہ کہ غلام بنانا۔ اس لیے یوسف علیہ السلام کے لیے بادشاہ کے قانون کے تحت اپنے بھائی کو روکنا ممکن نہ تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ تدبیر بنائی کہ خود یوسف کے بھائیوں کی زبان سے ان کے اپنے دین (شریعتِ یعقوب) کا قانون جاری ہوا، جس میں چور کی سزا غلام بنانا تھی۔ چنانچہ جب انہوں نے خود کہا: "جس کے سامان میں پیمانہ ملے، وہی اس کی سزا میں غلام رہے گا" تو یوسف علیہ السلام نے اسی قانون کے مطابق اپنے بھائی کو روک لیا۔

یہ اللہ کی حکمت اور قدرت کا کمال ہے کہ وہ اپنے بندوں کے لیے راستے نکالتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے، علم اور عمل کے اعتبار سے بلند درجے عطا فرماتا ہے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کو عطا کیا۔ اور یاد رکھو! ہر صاحبِ علم سے اوپر ایک اور بڑا عالم موجود ہے، یہاں تک کہ تمام علوم کا احاطہ کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لیے انسان کو کبھی اپنے علم پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ علم کا سلسلہ اللہ تک جاتا ہے، اور وہی سب کچھ جاننے والا ہے۔


دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی کیسے مدد فرماتا ہے اور ان کے لیے ایسے راستے کھولتا ہے جن کا انہیں وہم بھی نہیں ہوتا۔ جب انسان اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے اور صبر و تقویٰ اختیار کرتا ہے، تو اللہ اس کے لیے تدبیریں بناتا ہے اور اسے وہ مقام عطا کرتا ہے جو اس کے علم و عمل کی بدولت ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم علم حاصل کریں، لیکن ساتھ ہی یہ یقین رکھیں کہ سب سے بڑا علم اللہ کے پاس ہے، اور ہمیں اپنے علم پر فخر نہیں کرنا چاہیے۔ جو شخص عاجزی اور اللہ کی طرف رجوع کے ساتھ علم حاصل کرتا ہے، اللہ اسے بلند درجات عطا فرماتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو یوسف علیہ السلام کو عزیزِ مصر بناتا ہے، اور یہی راستہ ہر مسلمان کو دنیا و آخرت میں کامیابی تک پہنچا سکتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 74-78 — یوسف

74قَالُوا فَمَا جَزَاؤُهُ إِن كُنتُمْ كَاذِبِينَ
بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا
75قَالُوا جَزَاؤُهُ مَن وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں
76فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاءِ أَخِيهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَاءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے
77۞ قَالُوا إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَّهُ مِن قَبْلُ ۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۖ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ
(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے
78قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُ ۖ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ
وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
76آیت

ترجمہ — یوسف 76

سورہ یوسف آیت 76 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان…

سورہ آیت 76/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 74–78. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں