یوسف · 81/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
ارْجِعُوا إِلَىٰ أَبِيكُمْ فَقُولُوا يَا أَبَانَا إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَا إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ ۝٨١
Irji`ooo ilaaa abeekum faqooloo yaaa abaanaaa innab naka saraq; wa maa shahidnaaa illaa bimaa `alimnaa wa maa kunnaa lilghaibi haafizeen
📖 اردو ترجمہ
تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • سَرَقَ: چوری کی، کسی کی امانت میں خیانت کی۔
  • شَهِدْنَا: ہم نے گواہی دی۔
  • بِمَا عَلِمْنَا: اس کے مطابق جو ہم نے جانا اور دیکھا۔
  • لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ: پوشیدہ باتوں کو جاننے والے، غیب کی حفاظت کرنے والے۔

تفسیر:

جب حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس روک لیا اور ان کے سامان سے پیمانہ (صواع) برآمد ہوا، تو بھائیوں نے اس واقعہ کو دیکھ کر سمجھ لیا کہ اب معاملہ بہت سنگین ہو گیا ہے۔ ان کے بڑے بھائی نے (جو پہلے بھی حضرت یعقوب علیہ السلام سے وعدہ کر چکا تھا کہ بنیامین کو محفوظ واپس لائے گا) دوسرے بھائیوں سے کہا: "تم سب اپنے والد کے پاس واپس جاؤ اور ان سے جا کر کہو: اے ہمارے والد! آپ کے بیٹے (بنیامین) نے چوری کی ہے۔"

یہ الفاظ سن کر بھائیوں کے دل کانپ اٹھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ خبر ان کے والدِ بزرگوار کے لیے کتنی تکلیف دہ ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا: "اور ہم نے یہ گواہی نہیں دی مگر اس کے مطابق جو ہم نے خود دیکھا اور جانا، یعنی ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پیمانہ ان کے سامان سے نکلا ہے۔" انہوں نے یہ بھی کہا: "اور ہم غیب کی باتیں جاننے والے نہیں تھے کہ ہمیں معلوم ہوتا کہ بنیامین چوری کرے گا۔" یعنی ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں محفوظ واپس لائیں گے، لیکن ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ وہ اس طرح کے کام میں ملوث ہوں گے۔

یہاں بھائیوں کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے والد کو سمجھائیں کہ ہم نے کوئی قصور نہیں کیا، ہم نے اپنی ذمہ داری نبھائی، لیکن جو کچھ ہوا وہ ہمارے اختیار سے باہر تھا۔ وہ اس طرح اپنے والد کے غصے اور ملامت سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن ساتھ ہی ان کے دل میں یہ خوف بھی تھا کہ کہیں ان کے والد ان پر الزام نہ لگائیں کہ تم نے پہلے یوسف کے ساتھ جو کیا، آج بنیامین کے ساتھ بھی وہی کیا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ سچ بولنا اور حقائق کو واضح کرنا کتنا ضروری ہے، چاہے وہ کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو۔ بھائیوں نے اپنے والد کو سچ بتایا، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اس سے والد کو رنج ہوگا۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرنا چاہیے اور یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ غیب نہیں جانتا۔ ہم صرف ظاہری باتوں پر گواہی دے سکتے ہیں، باطن کا علم صرف اللہ کو ہے۔

اور سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ مصیبت کے وقت صبر اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو ایک کے بعد ایک بیٹے کی جدائی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے کبھی اللہ سے امید نہیں چھوڑی۔ آج ہمیں بھی اپنی زندگی میں جو بھی مشکلات آئیں، ہمیں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر مصیبت کے بعد آسانی عطا فرماتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 79-83 — یوسف

79قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِندَهُ إِنَّا إِذًا لَّظَالِمُونَ
(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں
80فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا ۖ قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًا مِّنَ اللَّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِي يُوسُفَ ۖ فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي ۖ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ
جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
81ارْجِعُوا إِلَىٰ أَبِيكُمْ فَقُولُوا يَا أَبَانَا إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَا إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ
تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے
82وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ الَّتِي كُنَّا فِيهَا وَالْعِيرَ الَّتِي أَقْبَلْنَا فِيهَا ۖ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے) تھے وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کر لیجیئے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہیں
83قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
81آیت

ترجمہ — یوسف 81

سورہ یوسف آیت 81 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو…

سورہ آیت 81/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 79–83. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں