Falammas tay`asoo minhu khalasoo najiyyan qaala kabeeruhum alam ta`lamoon anna abaakum qad akhaza `alaikum mawsiqam minal laahi wa min qablu maa farrattum fee Yoosufa falan abrahal arda hattaa yaazana leee abeee aw yahkumal laahu lee wa huwa khairul lhaakimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون از او نوميد شدند، مشاورت را به كنارى رفتند و بزرگ ترينشان گفت: آيا نمىدانيد كه پدرتان از شما به نام خدا پيمان گرفته و پيش از اين نيز در حق يوسف تقصير كردهايد؟ من از اين سرزمين بيرون نمىآيم تا پدر مرا رخصت دهد، يا خدا درباره من داورى كند، كه او بهترين داوران است.
جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اسْتَيْأَسُوا: مایوس ہو گئے، امید چھوڑ دی۔
خَلَصُوا نَجِیًّا: لوگوں سے الگ ہو کر تنہائی میں مشورہ کرنے لگے۔
کَبِیرُهُمْ: ان کا بڑا (جو عمر میں سب سے بڑا تھا)۔
مَوْثِقًا: مضبوط عہد اور پختہ وعدہ۔
فَرَّطْتُمْ: کوتاہی کی، قصور کیا۔
أَبْرَحَ: جدا نہیں ہوں گا، یہاں نہیں ٹھہروں گا۔
یَحْکُمَ اللهُ لِی: اللہ میرے حق میں فیصلہ کرے۔
تفسیر:
جب یوسف علیہ السلام کے بھائی اپنے بھائی بنیامین کو لے جانے کی ہر ممکن کوشش کر چکے اور یوسف علیہ السلام کی طرف سے سختی کے ساتھ انکار ہو چکا تو وہ مایوس ہو گئے۔ اس مایوسی کے عالم میں وہ سب لوگوں سے الگ ہو کر ایک کونے میں بیٹھ گئے اور آپس میں دھیمی آواز میں سرگوشیاں کرنے لگے، تاکہ کوئی ان کی بات نہ سن سکے۔ اس مشورے میں ان کے بڑے بھائی (جن کا نام روبیل تھا) نے کہا: کیا تم لوگ بھول گئے ہو کہ ہمارے والد بزرگوار نے ہم سے اللہ کا نام لے کر مضبوط عہد لیا تھا کہ ہم بنیامین کو ضرور واپس لائیں گے؟ اور اس سے پہلے بھی تم لوگوں نے یوسف کے معاملے میں کوتاہی کی تھی اور اپنے والد سے کیے ہوئے وعدے کو توڑا تھا۔ اس لیے میں اب اس سرزمین (مصر) کو نہیں چھوڑوں گا، جب تک میرا والد مجھے واپس جانے کی اجازت نہ دے، یا اللہ تعالیٰ میرے حق میں فیصلہ نہ کر دے کہ میں اپنے بھائی کو لے کر جا سکوں۔ اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، وہ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمیں کئی عظیم اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، یہ کہ سچے مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے وعدے کو پورا کرتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ یہ بھائی اپنے والد کے ساتھ کیے گئے عہد کو نبھانے کے لیے مصر کی سرزمین پر قیام پذیر رہے اور مشکلات کا سامنا کیا۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ جب انسان اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور اس سے فیصلے کی دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کبھی مایوس نہیں کرتا۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ باپ کی عزت اور اس کے ساتھ کیے گئے وعدے کی پاسداری کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ آج کے دور میں جہاں لوگ وعدوں کی پرواہ نہیں کرتے، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے وعدوں کو پورا کریں، خاص کر والدین کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز کا بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، اس لیے ہر معاملے میں اس کی طرف رجوع کریں اور اس پر بھروسہ رکھیں۔
وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں
جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔