اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے) تھے وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کر لیجیئے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الْقَرْيَةَ: اس سے مراد شہر "مصر" ہے، اور یہاں اہلِ مصر مراد ہیں۔
الْعِيرَ: قافلہ، یعنی اونٹوں کا وہ قافلہ جس پر سامان لدا ہوا تھا، اور اس سے مراد قافلے والے لوگ ہیں۔
تفسیر:
یہ وہ موقع ہے جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس واپس آئے تھے اور انہوں نے جھوٹی خبر دی تھی کہ یوسف کو بھیڑیے نے کھا لیا، لیکن جب بعد میں انہوں نے یوسف علیہ السلام کی چیز (پیمانہ) ان کے سامان میں پائی گئی تو وہ اپنے والد کو سچ بتانے کے بجائے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے کہنے لگے: "اے ہمارے والد! آپ ہم پر بھروسہ نہیں کرتے تو خود جا کر ان لوگوں سے پوچھ لیجیے جن کے شہر میں ہم تھے، یعنی مصر کے باشندوں سے، اور اس قافلے سے بھی پوچھ لیجیے جس کے ساتھ ہم واپس آئے ہیں۔ وہ سب گواہ ہیں کہ ہم نے کوئی چوری نہیں کی اور جو کچھ ہم آپ کو بتا رہے ہیں وہ سراسر سچ ہے۔"
یہ الفاظ دراصل ان کے دلوں کی پریشانی اور بے چینی کو ظاہر کرتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کا والد ایک نیک اور سمجھدار بزرگ ہیں، اور وہ ان کی بات پر آسانی سے یقین نہیں کریں گے۔ اس لیے انہوں نے باہر کے لوگوں کو گواہ بنا کر اپنی بات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ سچائی اور صداقت ہر حال میں مومن کی پہچان ہونی چاہیے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کی بات پر فوراً یقین نہیں کیا، بلکہ انہوں نے صبر اور تحقیق کا راستہ اختیار کیا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ معاملات میں جلد بازی نہ کریں، بلکہ حقائق کو جانچیں اور پھر فیصلہ کریں۔ نیز یہ کہ جھوٹ بولنا کبھی بھی کامیابی کا ذریعہ نہیں بنتا، چاہے کتنی ہی چالاکی سے کیوں نہ بول لیا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر بات کا علم رکھتا ہے اور سچائی ہی آخر کار غالب آتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ سچ بولنے والے بنیں، کیونکہ سچائی میں برکت ہے اور جھوٹ میں رسوائی۔
جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے
(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔