یوسف · 94/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَا أَن تُفَنِّدُونِ ۝٩٤
Wa lammaa fasalatil `eeru qaala aboohum innee la ajidu reeha Yoosufa law laaa an tufannidoon
📖 اردو ترجمہ
اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آ رہی ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَصَلَتِ الْعِيرُ: قافلہ مصر سے روانہ ہو کر الگ ہو گیا۔
  • تُفَنِّدُونِ: مجھے بوڑھا اور کم عقل کہتے ہو، میری عقل پر طعن کرتے ہو۔

تفسیر آیت:

جب قافلہ مصر سے روانہ ہو کر باہر نکل چکا، اور ان کے ساتھ یوسف علیہ السلام کا قمیص بھی تھا، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یعقوب علیہ السلام کے قلب پر یوسف کی محبت کا ایسا انکشاف فرمایا کہ انہیں فاصلے کے باوجود یوسف کی خوشبو محسوس ہونے لگی۔ انہوں نے اپنے پاس موجود لوگوں سے کہا: "میں یوسف کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں، اگر تم مجھے بوڑھا اور کم عقل نہ سمجھو تو"۔

یہ اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم معجزہ تھا کہ ایک باپ کو اپنے بیٹے کی خوشبو اتنی دور سے آ گئی، حالانکہ ان کے درمیان کئی دنوں کی مسافت تھی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو غیب سے آگاہ فرماتا ہے، اور محبتِ الٰہی میں ڈوبے ہوئے دلوں پر ایسے راز کھولتا ہے جو عام لوگوں پر مخفی ہوتے ہیں۔

یعقوب علیہ السلام نے یہ بات نہایت اطمینان اور یقین کے ساتھ کہی، لیکن ان کے ارد گرد موجود لوگ، جن میں ان کے بیٹے اور پوتے شامل تھے، انہیں بوڑھا سمجھ کر ان کی بات کو خیالِ باطل قرار دیتے تھے۔ اس لیے انہوں نے پہلے ہی یہ شرط لگا دی کہ اگر تم مجھے بے وقوف نہ سمجھو تو میں تمہیں بتاؤں کہ مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:

  1. اللہ پر بھروسہ: یعقوب علیہ السلام نے کئی سالوں تک اپنے بیٹے کی جدائی برداشت کی، لیکن اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوئے۔ ان کا یقین تھا کہ اللہ ضرور انہیں یوسف سے ملائے گا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ مشکلات میں اللہ سے امید نہ چھوڑیں۔
  2. محبت کا کمال: یہ محبت کی طاقت ہے کہ باپ کو بیٹے کی خوشبو اتنی دور سے آ گئی۔ جب دل میں سچی محبت ہو تو اللہ تعالیٰ اسے ایسے طریقوں سے نوازتا ہے جن کا اندازہ نہیں ہوتا۔
  3. لوگوں کی باتوں سے نہ ڈرو: یعقوب علیہ السلام کو لوگ بوڑھا سمجھتے تھے، لیکن انہوں نے اپنی بات کہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی۔ ہمیں بھی حق بات کہنے سے نہیں ڈرنا چاہیے، چاہے لوگ ہم پر ہنسیں۔
  4. اللہ کی قدرت: یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ چاہے تو دور سے خوشبو پہنچا دے، اور چاہے تو مردہ دل کو زندہ کر دے۔ ہمیں اللہ کی قدرت پر مکمل یقین رکھنا چاہیے۔

یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائشوں کے بعد انہیں ایسی خوشیاں عطا فرماتا ہے جو ان کے تصور سے بھی باہر ہوتی ہیں۔ صبر اور ایمان ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 92-96 — یوسف

92قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے
93اذْهَبُوا بِقَمِيصِي هَٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا وَأْتُونِي بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ
یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ
94وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَا أَن تُفَنِّدُونِ
اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آ رہی ہے
95قَالُوا تَاللَّهِ إِنَّكَ لَفِي ضَلَالِكَ الْقَدِيمِ
وہ بولے کہ والله آپ اسی قدیم غلطی میں (مبتلا) ہیں
96فَلَمَّا أَن جَاءَ الْبَشِيرُ أَلْقَاهُ عَلَىٰ وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا ۖ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہو گئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
94آیت

ترجمہ — یوسف 94

سورہ یوسف آیت 94 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے…

سورہ آیت 94/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 92–96. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں