ابراہیم · 2/52
ترجمہ تلفظ — ابراہیم
اللَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَوَيْلٌ لِّلْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيدٍ ۝٢
Allaahil lazee lahoo maa fis samaawaati wa maa fill ard; wa wailul lilkaafireena min `azaabin shadeed
📖 اردو ترجمہ
وہ خدا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور کافروں کے لیے عذاب سخت (کی وجہ) سے خرابی ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

اللہ وہ ذات ہے جس کی ملکیت میں آسمانوں کی ہر چیز اور زمین کی ہر چیز ہے، اور کافروں کے لیے سخت عذاب سے ہلاکت اور تباہی ہے۔

معانی الفاظ:

  • اللہ: اس آیت میں "اللہ" کا لفظ پہلی آیت میں مذکور "العزیز الحمید" کی صفت ہے، یعنی وہی اللہ جو غالب اور قابلِ تعریف ہے۔
  • وَيْلٌ: اس کا مطلب ہے ہلاکت، تباہی، یا شدید عذاب۔ یہ لفظ عذاب کی شدت اور برائی کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
  • لِلْكَافِرِينَ: ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسولوں کو نہ مانا۔
  • عَذَابٍ شَدِيدٍ: وہ عذاب جو نہایت سخت، دردناک اور ناقابلِ برداشت ہو۔

تفسیر:

یہ آیت سورۃ ابراہیم کی دوسری آیت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ اپنی ذات کی عظمت اور کمال قدرت کا تعارف کراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہی اللہ ہے جس کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین کی تمام چیزیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی ہر شے، چاہے وہ آسمانوں میں ہو یا زمین میں، سب اسی کی مملوک ہے۔ وہی ان سب کا خالق، مالک اور منتظم ہے۔ اس لیے وہی عبادت کے لائق ہے، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا سراسر ظلم اور جہالت ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ کافروں کے لیے سخت وعید سناتے ہیں کہ ان کے لیے "ویل" ہے، یعنی ہلاکت اور تباہی، اس سخت عذاب کی وجہ سے جو انہیں آخرت میں ملے گا۔ یہ عذاب ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، اس کے رسولوں کی دعوت کو رد کیا، اور کفر و شرک پر قائم رہے۔

یہ آیت ہمیں دو اہم سبق سکھاتی ہے:

  1. اللہ کی عظمت اور اس کی بے پایاں قدرت کا ادراک کریں، کیونکہ ساری کائنات اسی کی ملکیت ہے۔ جب ہم یہ حقیقت جان لیں تو ہمارے دلوں میں اللہ کی محبت، خشیت اور اطاعت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
  2. کفر اور نافرمانی کا انجام بہت برا ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں، اللہ کی عبادت میں یکسو رہیں، اور اس کے احکامات پر عمل کریں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور مالکیت کا ذکر کرکے بندوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اسی کی طرف رجوع کریں، اسی کی عبادت کریں، اور اسی سے ڈریں۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کی رحمت اور مغفرت حاصل کرنے کا راستہ ایمان اور عملِ صالح ہے، جبکہ کفر اور سرکشی کا انجام عذابِ شدید ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہم اس کے فضل و رحمت کے مستحق بنیں اور اس کے عذاب سے محفوظ رہیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 1-4 — ابراہیم

1الر ۚ كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ
الٓرٰ۔ (یہ) ایک (پُرنور) کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لیے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاؤ (یعنی) ان کے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابل تعریف (خدا) کے رستے کی طرف
2اللَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَوَيْلٌ لِّلْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
وہ خدا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور کافروں کے لیے عذاب سخت (کی وجہ) سے خرابی ہے
3الَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ
جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں
4وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۖ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انہیں (احکام خدا) کھول کھول کر بتا دے۔ پھر خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے
ابراہیمقرآن فہرست
52آیت
مکیRevelation
2آیت

ترجمہ — ابراہیم 2

سورہ ابراہیم آیت 2 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ خدا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے…

سورہ آیت 2/52 — ابراہیم إبراهيم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ابراہیم سنیں, ابراہیم ترجمہ, ابراہیم mp3, ابراہیم pdf. آیت 1–4. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں