Wa izaa baddalnaaa Aayatam makaana Aayatinw wal laahu a`lamu bimaa yunazzilu qaalooo innamaa anta muftar; bal aksaruhum laa ya`lamoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون آيهاى را جانشين آيه ديگر كنيم، خدا بهتر مىداند كه چه چيز نازل كند. گفتند كه تو دروغ مىبافى، نه، بيشترينشان نادانند.
اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بَدَّلْنَا آيَةً مَّكَانَ آيَةٍ: یعنی ایک آیت کے حکم کو دوسری آیت کے ذریعے تبدیل کرنا، جسے علمِ شریعت میں "نسخ" کہا جاتا ہے۔
مُفْتَرٍ: جھوٹا، بہتان باندھنے والا، جو اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے۔
تفسیرِ آیات:
اللہ تعالیٰ اپنی حکمتِ کاملہ کے تحت جب کسی آیت کے حکم کو کسی دوسری آیت سے بدلتا ہے — اور یہ تبدیلی محض اس لیے ہوتی ہے کہ بندوں کی مصلحت اور بہتری اسی میں ہوتی ہے — تو اللہ تعالیٰ خود خوب جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کر رہا ہے اور کس وقت کون سا حکم بندوں کے لیے بہتر ہے۔ لیکن کفارِ مکہ جب یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی حکم تبدیل ہوا ہے تو وہ فوراً آپ ﷺ پر الزام لگاتے ہیں کہ آپ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اپنی طرف سے قرآن میں تبدیلی کر دیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ تو صرف اللہ کے پیغام کو پہنچانے والے ہیں، اور یہ تبدیلی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ اس حکمت کو نہیں جانتے کہ اللہ کیوں کسی حکم کو منسوخ کرتا ہے اور کسی کو باقی رکھتا ہے۔ وہ جہالت اور ضد کی وجہ سے اس حقیقت کو سمجھ نہیں پاتے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک عظیم حقیقت سے روشناس کراتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت اپنے وقت کے لحاظ سے مکمل اور ہمہ گیر ہے۔ جس طرح ایک ماہر ڈاکٹر مریض کی حالت کے مطابق دوا تبدیل کرتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی بے پایاں حکمت سے وقت اور حالات کے مطابق احکام میں تبدیلی فرماتا ہے تاکہ بندوں کی بھلائی ہو۔ یہ تبدیلی اللہ کے علمِ کامل اور اس کی رحمت کا ثبوت ہے، نہ کہ کسی کمی کا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکام کو پوری رضا اور تسلیم کے ساتھ قبول کریں، کیونکہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا مفید ہے۔ جب ہم یہ یقین رکھیں گے کہ اللہ کا ہر حکم حکمت پر مبنی ہے، تو ہمارے دلوں میں قرآن اور سنت کی اتباع کا جذبہ مزید پختہ ہو جائے گا، اور ہم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوں گے جو جہالت اور ضد کی وجہ سے حق کو قبول نہیں کرتے۔ اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں
کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لے کر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے
اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔