ترجمہ — Tafsir
الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ ۖ فَأَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوءٍ ۚ بَلَىٰ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
معانی الفاظ:
- تَتَوَفَّاهُمُ: ان کی روحیں قبض کرتی ہیں۔
- ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ: اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے (یعنی کفر و شرک کے مرتکب)۔
- فَأَلْقَوُا السَّلَمَ: انہوں نے (موت کے فرشتوں کے سامنے) سرتسلیم خم کردیا، یعنی مکمل طور پر مطیع و منقاد ہوگئے اور جھک گئے۔
- مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوءٍ: ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے (یہ انکار اور جھوٹ ہے)۔
- بَلَىٰ: ہاں (یقیناً تم نے برے کام کیے)۔
تفسیر:
یہ آیت ان کافروں اور مشرکوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اپنے کفر و شرک کی وجہ سے اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔ جب ان کی موت کا وقت آتا ہے تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے، خاص طور پر ملک الموت اور ان کے معاون، ان کی روحیں قبض کرتے ہیں۔ اس وقت یہ لوگ سخت پریشانی اور خوف کی حالت میں ہوتے ہیں۔ جب وہ موت کی حقیقت اور اپنے انجام کو آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں تو یکدم استسلام اور عاجزی اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ اپنے کیے ہوئے اعمال سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: "ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے" — حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں، لیکن موت کی ہولناکی اور عذاب کے خوف نے انہیں اس قدر بےبس کردیا ہے کہ وہ اپنے کفر و شرک اور معاصی سے برأت ظاہر کرتے ہیں۔
لیکن فرشتے انہیں جواب دیتے ہیں: "ہاں! یقیناً تم نے یہ سب کچھ کیا تھا۔ اللہ تمہارے تمام اعمال سے خوب واقف ہے، چاہے تم نے انہیں چھپایا ہو یا ظاہر کیا ہو۔ وہ تمہیں تمہارے اعمال کا پورا بدلہ دے گا۔" یہ ان کے لئے سخت رسوائی اور ذلت کا لمحہ ہوتا ہے، کیونکہ ان کے جھوٹ اور انکار کے باوجود اللہ کا علم انہیں گھیر لیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ انسان کو ہر وقت اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔ موت کی گھڑی میں نہ تو کوئی انکار کام آتا ہے اور نہ ہی کوئی بہانہ۔ آج ہم جس دنیا میں ہیں، یہ امتحان کی جگہ ہے — جہاں ہمیں اللہ کی اطاعت اور اس کے احکام پر عمل کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ اگر ہم نے اس موقع کو غنیمت جانا اور نیک اعمال کئے تو ہماری موت آسان ہوگی اور فرشتے ہمیں خوشخبری دیں گے۔ لیکن اگر ہم نے کفر، شرک اور معاصی کا راستہ اختیار کیا تو موت کے وقت ہماری حالت اس سے کہیں بدتر ہوگی جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زندگی کو اس کے احکام کے مطابق گزاریں، اور موت کے فرشتوں سے اس حال میں ملیں کہ وہ ہمیں جنت کی بشارت دیں، نہ کہ عذاب کی۔ یاد رکھیں، اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے، اور ہمارے چھوٹے بڑے تمام اعمال اس کے علم میں ہیں۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو درست کریں اور اللہ کی رحمت کے طلبگار بنیں، کیونکہ وہی سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور معاف کرنے والا ہے۔
📜 آیت 26-30 — نحل
ترجمہ — نحل 28
سورہ نحل آیت 28 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی…سورہ آیت 28/128 — نحل النحل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نحل سنیں, نحل ترجمہ, نحل mp3, نحل pdf. آیت 26–30. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








