ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا: ان کے لیے مثال بیان کریں۔
- جَنَّتَیْنِ: دو باغ۔
- مِنْ أَعْنَابٍ: انگوروں کے۔
- وَحَفَفْنَاهُمَا: اور ہم نے ان دونوں کو گھیر دیا۔
- بِنَخْلٍ: کھجور کے درختوں سے۔
- زَرْعًا: کھیتی۔
تفسیر:
اے نبی! آپ اپنی قوم کے کافروں کو دو آدمیوں کی مثال دیں، جن میں سے ایک مؤمن تھا اور دوسرا کافر۔ ہم نے ان دونوں میں سے کافر کو دو باغ دیے تھے جو انگوروں کے تھے، اور ان باغوں کو ہم نے کھجور کے درختوں سے گھیر دیا تھا، اور ان دونوں باغوں کے درمیان کھیتیاں لگائی تھیں۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جس میں ہر قسم کی نعمتیں جمع تھیں — انگور، کھجور اور کھیتیاں — تاکہ وہ شخص اپنی دولت اور آسائش میں غرق ہو جائے۔
یہ مثال اس لیے دی گئی ہے کہ انسان اپنی دنیاوی دولت اور وسائل پر مغرور نہ ہو، کیونکہ یہ سب کچھ اللہ کی عطا ہے اور وہی اسے چھین بھی سکتا ہے۔ کافر شخص نے اپنے مال و دولت کو اپنی محنت کا نتیجہ سمجھا اور اللہ کا شکر ادا نہ کیا، جبکہ مؤمن شخص نے اسے نصیحت کی کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
یہ قرآن کا وہ انداز ہے جو انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے — کہ کیا یہ دنیاوی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں؟ کیا ان پر فخر کرنا عقلمندی ہے؟ اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل کامیابی آخرت میں ہے، اور دنیا کی دولت تو ایک آزمائش ہے۔ اگر انسان اس آزمائش میں کامیاب ہو جائے یعنی اللہ کا شکر ادا کرے اور اس کی راہ میں خرچ کرے، تو یہی اس کی نجات کا ذریعہ بنے گی۔ ورنہ یہی دولت اس کے لیے وبال بن سکتی ہے۔
یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ نے یہ مثال ہمارے لیے بیان کی ہے تاکہ ہم اپنی زندگیوں پر غور کریں — کیا ہم نعمتوں کے شکر گزار ہیں یا ان پر مغرور ہیں؟ کیا ہم اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یا صرف دنیا کی خاطر جمع کرتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر مسلمان کو خود سے پوچھنے چاہئیں۔ اللہ ہمیں شکر گزار بندے بنائے اور دنیا کی محبت سے بچائے۔ آمین۔
📜 آیت 30-34 — کہف
ترجمہ — کہف 32
سورہ کہف آیت 32 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن…سورہ آیت 32/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 30–34. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








