ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- صاحبہ: اس کا ساتھی (مومن دوست)
- یحاورہ: اس سے گفتگو کر رہا تھا، بحث و مباحثہ کر رہا تھا
- أکفرت: کیا تو نے کفر کیا؟
- من تراب: مٹی سے
- نطفہ: منی، قطرہ
- سوّاک: تجھے برابر کیا، مکمل بنایا، درست کیا
- رجلاً: مرد، انسان
تفسیر:
یہ وہ موقع ہے جب دو دوستوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن میں سے ایک مومن تھا اور دوسرا کافر۔ کافر دوست نے اپنے باغ اور دولت پر گھمنڈ کرتے ہوئے آخرت کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ قیامت آئے گی، اور اگر آئی بھی تو مجھے اس سے بہتر ملے گا۔ اس پر اس کا مومن ساتھی اسے نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے:
"کیا تو نے اس ذات کا کفر کیا جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر تجھے ایک مکمل انسان بنایا؟"
یہاں مومن دوست اس کافر کو اس کی اپنی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ وہ اسے یاد دلاتا ہے کہ تو خود اپنے وجود پر غور کر — تو کبھی مٹی تھا، پھر ایک حقیر قطرہ (نطفہ) بنا، پھر اللہ نے تجھے ایک مکمل، متناسب، خوبصورت انسان بنایا۔ جس ذات نے تجھے اتنی خوبصورتی سے پیدا کیا، کیا وہ تجھے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتی؟ کیا وہ جو ابتدائی تخلیق پر قادر ہے، دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں؟
یہاں "مٹی سے پیدا کیا" کا مطلب ہے کہ آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا گیا، اور تمام انسان انہی کی نسل سے ہیں۔ پھر "نطفہ سے" یعنی ہر انسان اپنے والدین کے نطفے سے وجود میں آتا ہے۔ پھر "سوّاک رجلاً" یعنی اللہ نے اس نطفے کو ایک مکمل، سیدھا، متناسب انسان بنایا — دو آنکھیں، دو کان، دو ہاتھ، دو پاؤں، عقل، دل، اور بے شمار صلاحیتیں۔
یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ جب ہم اپنے وجود پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اللہ کی عظیم قدرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہم مٹی سے تھے، پھر ایک قطرے سے، پھر اللہ نے ہمیں انسان بنایا — یہ سفر خود اللہ کی قدرت کا زندہ ثبوت ہے۔ تو کیا وہ جو ہمیں پہلی بار پیدا کر سکا، دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا؟ یقیناً وہ قادر ہے۔
پیارے بھائیو اور بہنو! ہمیں اپنے وجود پر غور کرنا چاہیے۔ جب ہم آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتے ہیں، اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتے ہیں، اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، اپنے کانوں سے سنتے ہیں — تو یہ سب اللہ کی قدرت کے نشانات ہیں۔ یہ سب کچھ ایک حقیر نطفے سے بنا ہے۔ جس اللہ نے ہمیں اتنی خوبصورتی سے بنایا، کیا وہ ہمیں دوبارہ زندہ کر کے ہمارے اعمال کا حساب نہیں لے سکتا؟ یقیناً وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اللہ کی نعمتوں پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔ مال، دولت، اولاد، صحت — یہ سب اللہ کی امانتیں ہیں، ہماری اپنی کمائی نہیں۔ جس نے ہمیں مٹی سے بنایا، وہی ہمیں رزق دیتا ہے، وہی ہمیں عزت دیتا ہے، اور وہی ہمیں پست بھی کر سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں ہمیشہ عاجزی اختیار کرنی چاہیے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
آئیے ہم اس آیت سے سبق لیں اور اپنے رب کی قدرت پر ایمان لائیں، اور آخرت پر یقین رکھیں، کیونکہ جو پہلی بار پیدا کر سکتا ہے، وہ دوبارہ پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے۔
📜 آیت 35-39 — کہف
ترجمہ — کہف 37
سورہ کہف آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا…سورہ آیت 37/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








