ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَن تَسْتَطِيعَ: ہرگز طاقت نہ رکھو گے، برداشت نہ کر سکو گے۔
- صَبْرًا: صبر کرنا، تحمل کرنا۔
تفسیر:
حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: "اے موسیٰ! آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکیں گے۔" یہ بات انہوں نے اس لیے کہی کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس شریعت کا علم تھا، جبکہ حضرت خضر علیہ السلام کے پاس باطنی علم اور خاص حکمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ظاہری احکام کے مطابق فیصلہ کریں گے، جبکہ حضرت خضر علیہ السلام اللہ کی خاص رہنمائی کے تحت ایسے امور انجام دیں گے جن کا ظاہری پہلو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علم کے خلاف ہوگا۔ اس لیے حضرت خضر علیہ السلام نے پہلے ہی واضح کر دیا کہ آپ سے صبر نہ ہو سکے گا، کیونکہ آپ وہ چیزیں دیکھیں گے جو آپ کے نزدیک ناقابلِ قبول ہوں گی، حالانکہ ان میں حکمت اور بھلائی چھپی ہوگی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے کہ علمِ ظاہر اور علمِ باطن دونوں اللہ کے فضل سے ہیں۔ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو ایسی حکمت عطا فرماتا ہے جو عام لوگوں کی سمجھ سے باہر ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے نیک بندوں کی باتوں پر غور کریں اور ان کے علم و حکمت کی قدر کریں۔ نیز یہ سبق ملتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی عالم یا بزرگ کی صحبت اختیار کرے تو اسے صبر اور تحمل سے کام لینا چاہیے، کیونکہ علم کی راہ میں صبر ہی کلید ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 65-69 — کہف
ترجمہ — کہف 67
سورہ کہف آیت 67 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (خضر نے) کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر…سورہ آیت 67/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 65–69. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








