ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ہَلْ أَتَّبِعُكَ: کیا میں آپ کی پیروی کروں؟
- مِمَّا عُلِّمْتَ: اس علم میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے۔
- رُشْدًا: ایسا علم جو ہدایت اور بھلائی کی طرف لے جائے۔
تفسیر:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس بزرگ بندے (حضرت خضر علیہ السلام) سے انتہائی عاجزی اور نرمی کے ساتھ گفتگو کی۔ انہوں نے سلام کیا اور پھر ادب سے عرض کیا: "کیا میں آپ کی پیروی کر سکتا ہوں؟" یعنی کیا آپ مجھے اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیں گے؟ انہوں نے یہ شرط رکھی کہ آپ مجھے اس علم میں سے کچھ سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ہے، تاکہ میں اس کے ذریعے راہِ راست پا سکوں اور بھلائی کی طرف رہنمائی حاصل کروں۔
یہ ایک عظیم سبق ہے کہ علم حاصل کرنے کے لیے تواضع اور ادب ضروری ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام باوجود اس کے کہ وہ اللہ کے برگزیدہ نبی تھے، ایک نیک بندے سے علم سیکھنے کے لیے اس قدر عاجزی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ علم کی طلب میں انسان کو اپنے مرتبے کا لحاظ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ جہاں بھی علم ملے اسے حاصل کرنا چاہیے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں علم تقسیم کیا ہے، اور کوئی شخص تمام علوم کا حامل نہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شریعت کا علم تھا، جبکہ حضرت خضر علیہ السلام کو بعض باطنی علوم اور غیبی حکمتیں عطا کی گئی تھیں۔ اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم دوسروں سے علم سیکھنے میں کبھی شرم محسوس نہ کریں، اور ہمیشہ اس علم کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو ہمیں اللہ کی راہ پر چلائے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے صرف "رُشد" یعنی ہدایت والا علم مانگا، نہ کہ دنیاوی فائدہ یا شہرت۔ یہ ہمارے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ ہم علم حاصل کریں تو اس نیت سے کریں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کرے اور ہماری زندگیوں کو سنوارے، نہ کہ صرف دنیاوی منفعت کے لیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی علمِ نافع عطا فرمائے اور ہمیں اپنے دین کی سمجھ دے۔ آمین۔
📜 آیت 64-68 — کہف
ترجمہ — کہف 66
سورہ کہف آیت 66 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : موسیٰ نے ان سے (جن کا نام خضر تھا) کہا…سورہ آیت 66/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 64–68. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








