ان لوگوں نے جب (خدا سے) عہد واثق کیا تو ان میں سے ایک فریق نے اس کو (کسی چیز کی طرح) پھینک دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر بے ایمان ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
عَاهَدُوا عَهْدًا: عہد و پیمان کیا، وعدہ کیا۔
نَبَذَهُ: اسے پھینک دیا، توڑ دیا، خلاف ورزی کی۔
فَرِيقٌ: ایک گروہ، ایک جماعت۔
لَا يُؤْمِنُونَ: ایمان نہیں لاتے، تصدیق نہیں کرتے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں بنی اسرائیل کے بدترین کردار اور ان کے عہد شکنی کے قبیح فعل پر تعجب کا اظہار فرما رہے ہیں۔ یہود کی یہ عادت رہی ہے کہ جب بھی انہوں نے کوئی عہد کیا، تو ان میں سے ایک گروہ نے اسے توڑ دیا اور اسے پس پشت ڈال دیا۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا زمانہ قریب آیا تو انہوں نے آپس میں عہد کیا کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں گے تو ہم ان پر ایمان لائیں گے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو کر تشریف لائے تو انہوں نے اپنے اس عہد کو توڑ دیا اور آپ پر ایمان نہ لائے۔ یہ ان کی بدعہدی اور منافقت کی انتہا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ صرف ایک گروہ کا فعل نہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ حقیقی ایمان نہیں رکھتے۔ اگر ان کے دلوں میں ایمان ہوتا تو وہ عہد کی پاسداری کرتے، کیونکہ ایمان ہی انسان کو وفا پر ابھارتا ہے۔ یہود کی یہ روش صرف اس وقت کی نہیں، بلکہ ان کی پوری تاریخ عہد شکنی اور وعدہ خلافی سے بھری پڑی ہے۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ، اپنے نبیوں کے ساتھ اور اپنے رب کے احکام کے ساتھ ہمیشہ بدعہدی کی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ایمان اور عہد کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ ایک سچا مومن وہی ہے جو اپنے وعدوں کا پاس و لحاظ رکھے، چاہے وہ اللہ کے ساتھ ہو یا انسانوں کے ساتھ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب سے کیے گئے عہد یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر احکام کی پابندی کریں اور اپنے معاملات میں بھی سچائی اور وفاداری کو اپنائیں۔ یاد رکھیں! عہد شکنی منافقوں کی علامت ہے اور وفائے عہد مومنوں کی پہچان۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں اور ہر قسم کی بدعہدی سے بچیں، تاکہ ہم اللہ کے نزدیک سچے مومن اور نیک بندے شمار ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عہد و پیمان کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور جب ان کے پاس الله کی طرف سے پیغمبر (آخرالزماں) آئے، اور وہ ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتے ہیں تو جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، ان میں سے ایک جماعت نے خدا کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا، گویا وہ جانتے ہی نہیں
اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔