بقرہ · 115/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ۝١١٥
Wa lillaahil mashriqu walmaghrib; fa aynamaa tuwalloo fasamma wajhullaah; innal laaha waasi`un Aleem
📖 اردو ترجمہ
اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ تو جدھر تم رخ کرو۔ ادھر خدا کی ذات ہے۔ بے شک خدا صاحبِ وسعت اور باخبر ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مشرق: سورج نکلنے کی سمت۔
  • مغرب: سورج ڈھلنے کی سمت۔
  • فأینما تولوا: تم جہاں بھی اپنے چہرے پھیرو۔
  • فثم وجه اللہ: وہیں اللہ کا چہرہ (یعنی اس کی رضا اور قبلہ) ہے۔
  • واسع: کشادہ رحمت والا، بے نیاز۔
  • علیم: جاننے والا، ہر چیز سے باخبر۔

تفسیر:

یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی وسعتِ رحمت کا عظیم پیغام دیتی ہے۔ اللہ ہی مشرق اور مغرب کا مالک ہے، بلکہ پوری زمین اور آسمان کا خالق و مالک وہی ہے۔ سورج جہاں سے نکلتا ہے اور جہاں غروب ہوتا ہے، نیز ان کے درمیان کی تمام سمتوں کا حقیقی مالک صرف اللہ ہے۔

جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ نماز میں قبلہ کی طرف رخ کرو، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کسی خاص سمت میں محدود ہے، بلکہ اللہ ہر جگہ موجود ہے اور اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ چنانچہ جہاں بھی تم اپنے چہرے پھیرو گے، اللہ کا چہرہ وہیں ہے، یعنی اللہ کی رضا، اس کی توجہ اور اس کا علم ہر سمت میں ہے۔ اگر کوئی شخص بھول کر یا مجبوری کی وجہ سے قبلہ کی درست سمت کا تعین نہ کر سکے، یا اسے حکم دیا گیا ہو کسی اور سمت کی طرف رخ کرنے کا (جیسے ابتدائے اسلام میں بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم تھا)، تو اس پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ اصل مقصد اللہ کی اطاعت اور اس کا تقرب حاصل کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ "واسع" ہے، یعنی اس کی رحمت، اس کی بخشش اور اس کی قدرت بے حد وسیع ہے، وہ اپنے بندوں پر تنگی نہیں کرتا اور ان کے حالات کے مطابق آسانیاں فراہم کرتا ہے۔ اور وہ "علیم" ہے، یعنی وہ تمہاری نیتوں، تمہارے اعمال اور تمہارے دلوں کے رازوں سے خوب واقف ہے، چاہے تم کسی بھی سمت میں نماز پڑھو، وہ تمہاری نیت کو جانتا ہے اور اس کے مطابق تمہیں اجر عطا فرمائے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے، جس میں آسانیاں رکھی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم پر کوئی ایسی مشکل نہیں ڈالنا چاہتا جو ہماری طاقت سے باہر ہو۔ اسی لیے جب کسی وجہ سے قبلہ کا تعین ممکن نہ ہو، تو اللہ نے اپنی رحمت سے اس میں آسانی دی ہے۔ یہ اللہ کی محبت اور شفقت کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے بندوں کی مجبوریوں کو جانتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، بلکہ اس کی وسعتِ رحمت پر بھروسہ رکھیں اور اپنی نیتوں کو درست رکھیں، کیونکہ اللہ نیتوں کے مطابق ہی اجر دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے، اس لیے ہمیں کبھی یہ خیال نہ کرنا چاہیے کہ ہم اللہ کی نظر سے باہر ہیں۔ چاہے ہم کہیں بھی ہوں، اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہماری ہر دعا، ہر عبادت اور ہر عمل اس کے علم میں ہے۔



📜 آیت 113-117 — بقرہ

113وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَىٰ عَلَىٰ شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَىٰ لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۚ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی رستے پر نہیں۔ حالانکہ وہ کتاب (الہٰی) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا
114وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَا ۚ أُولَٰئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی مسجدوں میں خدا کے نام کا ذکر کئے جانے کو منع کرے اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو۔ان لوگوں کو کچھ حق نہیں کہ ان میں داخل ہوں، مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب
115وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ تو جدھر تم رخ کرو۔ ادھر خدا کی ذات ہے۔ بے شک خدا صاحبِ وسعت اور باخبر ہے
116وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۖ بَل لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ
اور یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے۔ (نہیں) وہ پاک ہے، بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کا ہے اور سب اس کے فرماں بردار ہیں
117بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَإِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والاہے۔ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے.
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
115آیت

ترجمہ — بقرہ 115

سورہ بقرہ آیت 115 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ تو…

سورہ آیت 115/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 113–117. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں