لیکن اگر (ایسا) نہ کر سکو اور ہرگز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے (اور جو) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَمْ تَفْعَلُوا: تم نے ایسا نہ کیا (یعنی معجزہ پیش کرنے سے قاصر رہے)
وَلَن تَفْعَلُوا: اور تم آئندہ بھی ہرگز نہیں کر سکو گے
وَقُودُهَا: اس کا ایندھن، جس سے آگ بھڑکائی جائے
النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ: لوگ اور پتھر (یعنی کافر لوگ اور پتھر اس کا ایندھن ہوں گے)
أُعِدَّتْ: تیار کی گئی ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے آیت میں کافروں کو چیلنج کیا تھا کہ اگر تمہیں شک ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں تو اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لاؤ۔ اب اس آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم نے یہ کام نہ کیا — اور تم ہرگز نہیں کر سکو گے، خواہ تم سب مل کر بھی کوشش کر لو — تو پھر اس آگ سے بچو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں۔
یہ وہ آگ ہے جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس کا ایندھن خود کافر لوگ ہوں گے اور پتھر بھی، جن میں سلف صالحین نے کہا کہ خاص طور پر گندھک (سلفر) کے پتھر مراد ہیں، کیونکہ وہ سب سے زیادہ تیزی سے آگ پکڑتے اور دیر تک جلے رہتے ہیں۔ بعض مفسرین نے کہا کہ ان پتھروں سے وہ بت اور اصنام مراد ہیں جنہیں کافر اللہ کے سوا پوجتے تھے، تاکہ وہ ان کے ساتھ مل کر جلیں اور ان کے معبود ان کے کام نہ آئیں۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کو ڈرایا ہے کہ اگر وہ ایمان نہ لائے اور قرآن کے معجزہ کو نہ مانا تو ان کا انجام یہ ہوگا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی پیغام ہے کہ ایمان لانے والوں کے لیے نجات کا راستہ کھلا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چیلنج اس لیے دیا تاکہ لوگوں پر حجت تمام ہو جائے اور پھر جو ایمان لائے وہ کامیاب ہو اور جو انکار کرے اس پر عذاب ثابت ہو جائے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ قرآن کا معجزہ ہمیشہ کے لیے قائم ہے۔ آج تک کسی نے بھی اس جیسی کوئی کتاب نہیں بنا سکی، اور قیامت تک نہیں بنا سکے گا۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ہمیں قرآن جیسی عظیم کتاب دی، جس میں ہر دور کے لیے ہدایت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس پر ایمان لائیں، اس پر عمل کریں، اور اسے اپنی زندگی کا دستور بنائیں۔ جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے، اللہ انہیں اس آگ سے بچائے گا اور جنت میں داخل کرے گا۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ آئیے ہم سب قرآن کو پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں۔
جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے مینہ برسا کر تمہارے کھانے کے لیے انواع و اقسام کے میوے پیدا کئے۔ پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ۔ اور تم جانتے تو ہو
اور اگر تم کو اس (کتاب) میں، جو ہم نے اپنے بندے (محمدﷺ عربی) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے (نعمت کے) باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے، یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا۔ اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے
الله اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں، وہ یقین کرتے ہیں وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا تو نافرمانوں ہی کو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔