بقرہ · 57/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡكُمُ ٱلۡغَمَامَ وَأَنزَلۡنَا عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَنَّ وَٱلسَّلۡوَىٰۖ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ  ۝٥٧
Wa zallalnaa `alaikumul ghamaama wa anzalnaa `alaikumul Manna was Salwaa kuloo min taiyibaati maa razaqnaakum wa maa zalamoonaa wa laakin kaanooo anfusahum yazlimoon
📖 اردو ترجمہ
اور بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور (تمہارے لیے) من و سلویٰ اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں، ان کو کھاؤ (پیو) مگر تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی (اور) وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ظَلَّلْنَا: ہم نے سایہ کیا۔
  • الْغَمَامَ: بادل (جو سایہ فراہم کرتا ہے
  • الْمَنَّ: ایک میٹھا مادہ جو شہد کی مانند ہوتا ہے (ترنجبین
  • السَّلْوَىٰ: ایک چھوٹا پرندہ (بٹیر) جو لذیذ گوشت رکھتا ہے۔
  • طَيِّبَاتِ: پاکیزہ اور حلال چیزیں۔
  • يَظْلِمُونَ: نقصان پہنچاتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرما رہے ہیں کہ جب بنی اسرائیل صحرائے سینا میں سرگرداں تھے اور راستہ بھول گئے تھے، تو اللہ نے اپنی رحمت سے ان پر بادل کا سایہ فرمایا جو انہیں تپتی دھوپ سے بچاتا تھا۔ یہ ان کی حیرت انگیز مدد تھی کہ بغیر کسی ذریعے کے ان پر سایہ قائم رہا۔

پھر اللہ نے ان کے لیے "من" اور "سلویٰ" اتارے۔ "من" ایک میٹھا مشروب یا مادہ تھا جو شہد کی طرح لذیذ تھا، اور "سلویٰ" بٹیر کا پرندہ تھا جس کا گوشت نہایت لذیذ اور پاکیزہ تھا۔ یہ دونوں غذائیں ان کے لیے صحرا میں معجزاتی رزق تھیں، جو بغیر محنت اور کھیتی باڑی کے انہیں حاصل ہوتی تھیں۔ اللہ نے ان سے کہا: "کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں" یعنی حلال اور طیب رزق سے فائدہ اٹھاؤ، لیکن اس نعمت کا شکر ادا کرو اور نافرمانی نہ کرو۔

اس کے باوجود بنی اسرائیل نے ناشکری کی اور اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کی ناشکری سے اللہ کا کوئی نقصان نہیں ہوا، کیونکہ اللہ تو بے نیاز ہے، اس کی ذات کو کسی کی اطاعت سے فائدہ نہیں اور نہ کسی کی معصیت سے نقصان۔ بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا، کیونکہ ان کے گناہوں کا وبال انہیں پر پڑا، ان کے دلوں پر سختی آئی، اور وہ اللہ کے عذاب کے مستحق بنے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کتنا مہربان ہے۔ جب بندہ مشکل میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے لیے غیر متوقع راستے کھول دیتا ہے، جیسے بنی اسرائیل کے لیے صحرا میں بادل کا سایہ اور آسمانی غذا۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کی ہر نعمت پر شکر ادا کریں، چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔ ناشکری اور کفرانِ نعمت انسان کو خود نقصان پہنچاتی ہے، اللہ کو کوئی نقصان نہیں۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں اللہ کے دیے ہوئے رزقِ حلال کو پہچاننا چاہیے اور اسے اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت ہر وقت ہمارے ساتھ ہے، بس ہمیں اس کا شکر گزار بندہ بننا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 55-59 — بقرہ

55وَإِذۡ قُلۡتُمۡ يَٰمُوسَىٰ لَن نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى ٱللَّهَ جَهۡرَةً فَأَخَذَتۡكُمُ ٱلصَّٰعِقَةُ وَأَنتُمۡ تَنظُرُونَ 
اور جب تم نے (موسیٰ) سے کہا کہ موسیٰ، جب تک ہم خدا کو سامنے نہ دیکھ لیں گے، تم پر ایمان نہیں لائیں گے، تو تم کو بجلی نے آ گھیرا اور تم دیکھ رہے تھے
56ثُمَّ بَعَثۡنَٰكُم مِّنۢ بَعۡدِ مَوۡتِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ 
پھر موت آ جانے کے بعد ہم نے تم کو ازسرِ نو زندہ کر دیا، تاکہ احسان مانو
57وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡكُمُ ٱلۡغَمَامَ وَأَنزَلۡنَا عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَنَّ وَٱلسَّلۡوَىٰۖ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ 
اور بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور (تمہارے لیے) من و سلویٰ اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں، ان کو کھاؤ (پیو) مگر تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی (اور) وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے
58وَإِذۡ قُلۡنَا ٱدۡخُلُواْ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةَ فَكُلُواْ مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ رَغَدًا وَٱدۡخُلُواْ ٱلۡبَابَ سُجَّدًا وَقُولُواْ حِطَّةٌ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطَٰيَٰكُمۡۚ وَسَنَزِيدُ ٱلۡمُحۡسِنِينَ 
اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو، خوب کھاؤ (پیو) اور (دیکھنا) دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور حطة کہنا، ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے
59فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ قَوۡلًا غَيۡرَ ٱلَّذِي قِيلَ لَهُمۡ فَأَنزَلۡنَا عَلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ رِجۡزًا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ 
تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس کا ان کو حکم دیا تھا، بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا، کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
57آیت

ترجمہ — بقرہ 57

سورہ آیت 57/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 55–59. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں