مَوْتِكُمْ: تمہاری موت (یہاں مراد صاعقہ کی وجہ سے بے ہوشی اور موت جیسی حالت)۔
لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ: تاکہ تم شکر کرو۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنے فضل و کرم کا ایک اور عظیم احسان بیان فرما رہے ہیں۔ جب انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہم اللہ کو کھلم کھلا نہیں دیکھ سکتے، تو اللہ نے ان پر صاعقہ (آسمانی عذاب) بھیجا جس سے وہ مر گئے یا بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ یہ ان کی سرکشی اور جسارت کی سزا تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے انہیں دوبارہ زندہ فرما دیا، تاکہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی پوری کریں اور اپنے رزق سے فائدہ اٹھائیں۔
یہ اللہ کی رحمت اور قدرت کا بہت بڑا مظاہرہ تھا کہ موت کے بعد دوبارہ زندگی دی گئی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اللہ کے اس احسان کا شکر ادا کریں، اپنے رب کی عظمت کو پہچانیں اور اس کی نافرمانی سے باز آئیں۔ یہ واقعہ انہیں سبق سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، وہ جسے چاہے موت دے اور جسے چاہے زندہ کرے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کتنا مہربان ہے۔ وہ غلطی کرنے والوں کو سزا دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی توبہ اور اصلاح کی صورت میں رحمت کا دروازہ بھی کھلا رکھتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانیں اور ہر حال میں اس کا شکر ادا کریں۔ شکر کرنے والوں کو اللہ مزید نعمتیں عطا فرماتا ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا۔" ہمیں اپنی زندگی میں اللہ کے احسانات کو یاد رکھنا چاہیے اور اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شکرگزاری کا رویہ اختیار کرنا چاہیے، تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھائیو، تم نے بچھڑے کو (معبود) ٹھہرانے میں (بڑا) ظلم کیا ہے، تو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو اور اپنے تئیں ہلاک کر ڈالو۔ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے۔ پھر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا۔ وہ بے شک معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے
اور بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور (تمہارے لیے) من و سلویٰ اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں، ان کو کھاؤ (پیو) مگر تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی (اور) وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے
اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو، خوب کھاؤ (پیو) اور (دیکھنا) دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور حطة کہنا، ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔