ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَهَلْ أَتَاكَ: کیا تجھے پہنچا / کیا تیرے پاس آیا
- حَدِیثُ مُوسَىٰ: موسیٰ علیہ السلام کا قصہ اور واقعہ
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب فرما رہے ہیں کہ اے رسول! کیا آپ تک موسیٰ علیہ السلام کا وہ مبارک اور عبرت آموز واقعہ پہنچا ہے؟ یہ استفہام حقیقی سوال کے لیے نہیں، بلکہ اس لیے ہے کہ سننے والے کا ذہن متوجہ ہو اور دل اس عظیم قصے کی طرف لگ جائے۔ یہ ایک ایسا انداز ہے جس سے گفتگو میں تاثیر پیدا ہوتی ہے اور سامع کی توجہ مرکوز ہو جاتی ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرما کر ان کی عظمت کو اجاگر کیا ہے، کیونکہ وہ اولو العزم رسولوں میں سے تھے، جنہیں تورات دی گئی، فرعون کے ساتھ ان کا عظیم مقابلہ ہوا، اور بنی اسرائیل کو غلامی سے نجات دلائی۔ اس قصے میں بہت سی نصیحتیں، عبرتیں اور سبق ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے قرآن میں تفصیل سے بیان فرمایا۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات کو غور سے پڑھنا چاہیے اور ان سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ یہ قصے محض کہانیاں نہیں، بلکہ ہدایت کا خزانہ ہیں۔ جب ہم موسیٰ علیہ السلام کی دعوت، ان کی صبر آزما آزمائشوں اور اللہ کی مدد کو دیکھتے ہیں تو ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور ہمیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ اپنے نیک بندوں کی ہمیشہ مدد کرتا ہے۔
اے مسلمان! جب تم قرآن پڑھو تو انبیاء کے قصوں کو محض سن کر نہ گزرو، بلکہ ان سے سبق حاصل کرو۔ موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں صبر، استقامت، دعا اور اللہ پر بھروسہ کی ایسی روشن مثالیں ہیں جو ہر مسلمان کے لیے مشعل راہ ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو کامیابی اور نجات تک پہنچاتا ہے۔
📜 آیت 7-11 — طہ
ترجمہ — طہ 9
سورہ طہ آیت 9 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کیا تمہیں موسیٰ (کے حال) کی خبر ملی ہےسورہ آیت 9/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 7–11. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








