طہ · 90/135
ترجمہ تلفظ — طہ
وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَارُونُ مِن قَبْلُ يَا قَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَٰنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي ۝٩٠
Wa laqad qaala lahum Haaroonu min qablu yaa qawmi innamaa futintum bihee wa inna Rabbakumur Rahmaanu fattabi`oonee wa atee`ooo amree
📖 اردو ترجمہ
اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگو اس سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے۔ اور تمہارا پروردگار تو خدا ہے تو میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فُتِنتُم بِهِ: تمہیں اس (بچھڑے) کے ذریعے آزمایا گیا۔
  • الرَّحْمَنُ: وہ ذات جو بے حد رحم کرنے والی ہے۔
  • فَاتَّبِعُونِي: پس میری پیروی کرو۔

تفسیر:

حضرت ہارون علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اس وقت نصیحت کی جب وہ گوسالہ بنانے اور اس کی پوجا شروع کرنے کے بعد گمراہی کا شکار ہو چکے تھے، اور یہ سب کچھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی سے پہلے ہی ہو گیا تھا۔ آپ نے انہیں آگاہ کیا کہ یہ گوسالہ محض ایک آزمائش ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے رکھی گئی ہے تاکہ یہ ظاہر ہو سکے کہ تم میں سے کون سچا مومن ہے اور کون اپنے ایمان میں کمزور ہے۔ یہ کوئی معبود نہیں بلکہ ایک بے جان مورت ہے جو نہ نفع پہنچا سکتی ہے نہ نقصان۔

پھر آپ نے انہیں یاد دلایا کہ تمہارا حقیقی رب وہی ہے جو رحمان ہے، یعنی وہ ذات جو اپنی رحمت سے ہر چیز کو محیط ہے، اور اسی کی رحمت ہی تمہارے لیے نجات کا ذریعہ بن سکتی ہے، نہ کہ یہ بے جان بچھڑا۔ اس لیے آپ نے انہیں دعوت دی کہ میری پیروی کرو، کیونکہ میں تمہیں اسی راستے کی طرف بلاتا ہوں جو اللہ کی توحید اور اس کی عبادت کا راستہ ہے، اور میرے حکم کی اطاعت کرو جو تمہیں شرک اور گمراہی سے بچانے کے لیے ہے۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ نبی اور داعی کا فرض ہے کہ وہ اپنی قوم کو غلطی پر دیکھ کر خاموش نہ بیٹھے، بلکہ واضح طور پر انہیں سمجھائے اور راہ راست کی طرف بلائے، چاہے لوگ اسے سنیں یا نہ سنیں۔ حضرت ہارون علیہ السلام کا اندازِ دعوت نہایت شفقت اور محبت سے بھرا ہوا تھا، انہوں نے "یا قوم" کہہ کر مخاطب کیا، جو محبت اور خیرخواہی کا اظہار ہے۔ یہ ہمارے لیے بھی سبق ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، نرمی اور حکمت کے ساتھ، اور کبھی بھی حق کہنے سے نہ گھبرائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد رحم کرنے والا ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ ہم اسی کی عبادت کریں تاکہ ہم اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔ آئیے ہم بھی اپنے رب کی طرف رجوع کریں، اس کی اطاعت کریں، اور اپنے دلوں کو اس کی محبت سے منور کریں، کیونکہ اسی میں ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 88-92 — طہ

88فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهُ خُوَارٌ فَقَالُوا هَٰذَا إِلَٰهُكُمْ وَإِلَٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِيَ
تو اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا بنا دیا (یعنی اس کا) قالب جس کی آواز گائے کی سی تھی۔ تو لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے۔ مگر وہ بھول گئے ہیں
89أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا وَلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا
کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ وہ ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا۔ اور نہ ان کے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتا ہے
90وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَارُونُ مِن قَبْلُ يَا قَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَٰنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي
اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگو اس سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے۔ اور تمہارا پروردگار تو خدا ہے تو میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو
91قَالُوا لَن نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عَاكِفِينَ حَتَّىٰ يَرْجِعَ إِلَيْنَا مُوسَىٰ
وہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ ہمارے پاس واپس نہ آئیں ہم تو اس کی پوجا پر قائم رہیں گے
92قَالَ يَا هَارُونُ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوا
(پھر موسیٰ نے ہارون سے) کہا کہ ہارون جب تم نے ان کو دیکھا تھا کہ گمراہ ہو رہے ہیں تو تم کو کس چیز نے روکا
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
90آیت

ترجمہ — طہ 90

سورہ طہ آیت 90 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا…

سورہ آیت 90/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 88–92. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں