ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَن نَّبْرَحَ: ہم ہرگز جدا نہیں ہوں گے، نہ چھوڑیں گے۔
- عَاکِفِینَ: مقیم رہنے والے، جمے رہنے والے (عبادت کے لیے)۔
- یَرْجِعَ: واپس آجائے۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام چالیس دن کے لیے کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کے لیے گئے تو قومِ بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ نے سامری کے بہکاوے میں آکر گو سالے کے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی۔ جب حضرت ہارون علیہ السلام نے انہیں اس شرک سے روکنے کی کوشش کی اور ڈرایا کہ موسیٰ علیہ السلام واپس آ کر سخت مؤاخذہ کریں گے، تو ان گمراہ لوگوں نے بے باکی سے جواب دیا: "ہم اس بچھڑے کی عبادت پر جمے رہیں گے اور اسے ہرگز نہیں چھوڑیں گے، یہاں تک کہ موسیٰ خود ہمارے پاس واپس آ جائیں۔"
یہ جواب ان کے ہٹ دھرمی اور گمراہی پر اڑے رہنے کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے حضرت ہارون علیہ السلام کی نصیحت کو ٹھکرا دیا اور اپنے گمراہ کن راستے پر قائم رہنے کا اعلان کر دیا۔ اس پر حضرت ہارون علیہ السلام نے ان سے علیحدگی اختیار کی اور اپنے ساتھ مومنوں کو لے کر الگ ہو گئے، تاکہ ان کے شرک اور گمراہی میں شریک نہ ہوں۔
دعوتی پہلو:
اس واقعے سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ انسان جب اپنی خواہشات اور گمراہی پر اڑ جاتا ہے تو وہ حق کی آواز کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا، چاہے اسے نصیحت کرنے والا کتنا ہی سچا اور مخلص کیوں نہ ہو۔ یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم اپنے دلوں کو ہمیشہ حق کے لیے کھلا رکھیں، کبھی بھی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کو ایمان پر غالب نہ آنے دیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت پر قائم رہنے اور گمراہی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 89-93 — طہ
ترجمہ — طہ 91
سورہ طہ آیت 91 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ ہمارے پاس واپس…سورہ آیت 91/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 89–93. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








