ترجمہ — Tafsir
فَمَا زَالَت تِّلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّىٰ جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ
معانی الفاظ:
- دَعْوَاهُمْ: اُن کی پکار، اُن کا کہنا۔
- حَصِیدًا: کٹی ہوئی فصل، یعنی ایسے لوگ جو کاٹ ڈالے گئے۔
- خَامِدِین: بجھے ہوئے، مرے ہوئے، جن میں کوئی حرکت یا زندگی نہ ہو۔
تفسیر:
جب ان ظالموں پر عذاب آیا اور وہ اپنی سزاوں کو دیکھنے لگے تو ان کی زبان پر مسلسل یہی پکار تھی: "ہائے ہماری تباہی! ہم واقعی ظالم تھے۔" وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے اور اپنے اوپر ہلاکت کو بلاتے رہے، لیکن یہ پکار اور یہ پشیمانی اُن کے کام نہ آئی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس طرح نیست و نابود کر دیا جیسے کھیت کی کٹی ہوئی فصل بچھی رہ جاتی ہے، اور وہ بالکل بجھے ہوئے، بےجان ہو کر رہ گئے۔ نہ ان میں کوئی حرکت تھی، نہ کوئی آواز، نہ کوئی مددگار۔
یہ منظر قیامت سے پہلے کی ایک عبرت ہے کہ جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو اقرارِ جرم اور پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو بیان کر کے ہمیں متنبہ کیا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی تکذیب اور نافرمانی پر اصرار نہ کریں، ورنہ ہم پر بھی وہی عذاب آ سکتا ہے جو پہلی قوموں پر آیا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبردار کیا ہے کہ وہ لوگ جو حق کو جھٹلاتے ہیں اور اپنی سرکشی پر اڑے رہتے ہیں، ان کا انجام کٹی ہوئی فصل جیسا ہوتا ہے۔ لیکن ہم پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے ہمیں قرآن اور سنت دی، ہمیں توبہ کا دروازہ کھلا رکھا۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکموں کے مطابق ڈھالیں، رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کریں، اور ان قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت توبہ کرنے والوں کے لیے ہے، لیکن عذاب کے آجانے کے بعد پشیمانی کچھ کام نہیں آتی۔ آئیے آج ہی اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ کے سچے بندے بن کر چلیں، تاکہ ہم اس عظیم انجام سے محفوظ رہیں جو ظالموں کا مقدر بنا۔
📜 آیت 13-17 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 15
سورہ انبیاء آیت 15 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو وہ ہمیشہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ…سورہ آیت 15/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 13–17. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








