ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یا ویلنا: ہلاکت، تباہی اور عذاب پر افسوس کا اظہار۔ اس کا مطلب ہے "ہائے ہماری تباہی!"
- ظالمین: ظلم کرنے والے، اپنی جانوں پر زیادتی کرنے والے۔
تفسیر:
جب ان ظالموں پر عذابِ الٰہی آگیا اور وہ اپنے انجام کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگے، تو اس وقت ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا، نہ کوئی بچاؤ کا ذریعہ تھا اور نہ کوئی عذر پیش کرنے کی گنجائش تھی۔ بس ان کی زبان سے صرف یہ نکلتا تھا: "ہائے ہماری تباہی! بے شک ہم ظالم تھے۔" وہ اپنے کفر، شرک اور گناہوں کا اعتراف کر رہے تھے، لیکن یہ اعتراف اس وقت تھا جب اعتراف کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب انہوں نے اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیا تھا، ایمان لانے کا وقت گزر چکا تھا، توبہ کا دروازہ بند ہو چکا تھا۔ وہ اب پہچان گئے تھے کہ انہوں نے اپنے رب کے ساتھ ظلم کیا، اپنی جانوں کے ساتھ زیادتی کی، اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلا کر اپنے لیے یہ تباہی مول لی تھی۔ لیکن یہ پہچان اور یہ اعتراف انہیں کسی کام نہ آیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مہلت دی ہے، توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ ہم ابھی زندہ ہیں، ابھی وقت ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔ یہ اعترافِ جرم جو ان ظالموں نے عذاب کے وقت کیا، وہ ہم آج کر سکتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ سچی توبہ اور نیک اعمال کریں۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور ان کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ آئیے ہم اس آیت سے سبق لیں کہ اللہ کی نافرمانی سے بچیں، اور اگر کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو فوراً توبہ کریں، کیونکہ موت کا وقت معلوم نہیں اور عذاب آتے ہی دیر نہیں لگتی۔ اللہ ہمیں اپنی اطاعت کی توفیق دے اور عذابِ آخرت سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 12-16 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 14
سورہ انبیاء آیت 14 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہنے لگے ہائے شامت بےشک ہم ظالم تھےسورہ آیت 14/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 12–16. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








