انبیاء · 19/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِندَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ ۝١٩
Wa lahoo man fis samaawaati wal ard; wa man `indahoo laa yastakbiroona `an `ibaada tihee wa laa yastahsiroon
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک اور اُسی کا مال) ہیں۔ اور جو (فرشتے) اُس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کنیاتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لَا يَسْتَكْبِرُونَ: تکبر نہیں کرتے، عبادت سے انکار نہیں کرتے۔
  • لَا يَسْتَحْسِرُونَ: تھکتے نہیں، عاجز نہیں ہوتے، اکتاتے نہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا مالک ہے۔ آسمانوں میں جو کچھ ہے اور زمین میں جو کچھ ہے، سب کچھ اسی کی ملکیت ہے۔ کوئی بھی چیز، کوئی بھی مخلوق اس کی ملکیت سے باہر نہیں۔ یہاں تک کہ جو فرشتے اس کے خاص مقرب ہیں، جو اس کے عرش کے گرد حاضر رہتے ہیں، وہ بھی اسی کے بندے اور اسی کی ملکیت ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان مقرب فرشتوں کی صفت بیان فرمائی کہ وہ کبھی اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے۔ وہ عبادت کو اپنے لیے باعثِ ذلت نہیں سمجھتے، بلکہ یہ ان کے لیے عزت اور شرف کا باعث ہے۔ وہ نہ صرف عبادت سے انکار نہیں کرتے، بلکہ کبھی تھکتے بھی نہیں، نہ اکتاتے ہیں، نہ عاجز آتے ہیں۔ وہ دن رات، بغیر کسی شکایت کے، بغیر کسی تھکن کے اللہ کی تسبیح اور عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔

یہاں ایک اہم سبق ہے کہ جب اللہ کے مقرب فرشتے، جو کہ معصوم اور پاکیزہ مخلوق ہیں، اس کی عبادت میں کبھی سستی نہیں کرتے اور نہ ہی تکبر کرتے ہیں، تو پھر انسانوں کو کیسے زیبا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت سے منہ موڑیں یا اس میں کوتاہی کریں؟ اگر کوئی انسان اللہ کی عبادت سے تکبر کرتا ہے، تو وہ فرشتوں سے بھی بدتر ہے، کیونکہ فرشتے تو عاجزی اور انکساری کے ساتھ عبادت کرتے ہیں۔

یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کی عبادت کوئی بوجھ نہیں، بلکہ یہ روح کی غذا ہے، دل کا سکون ہے۔ جب فرشتے اس عبادت میں لذت پاتے ہیں اور کبھی تھکتے نہیں، تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی نماز، ذکر اور عبادت کو محبت اور شوق سے ادا کریں، نہ کہ بوجھ سمجھ کر۔ اللہ کی عبادت ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اس کے قریب کرتا ہے اور ہماری زندگیوں میں برکت اور سکون لاتا ہے۔

یاد رکھیں، جس نے اللہ کی عبادت میں تکبر کیا، وہ آخرت میں ذلیل ہوگا، اور جس نے عاجزی اور محبت سے عبادت کی، وہ اللہ کے قرب اور اس کی رحمت کا مستحق ہوگا۔ اللہ ہمیں اپنی عبادت میں مشغول رکھے اور تکبر اور سستی سے بچائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 17-21 — انبیاء

17لَوْ أَرَدْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنَاهُ مِن لَّدُنَّا إِن كُنَّا فَاعِلِينَ
اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن وفرزند) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنالیتے
18بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۚ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری ہی خرابی ہے
19وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِندَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ
اور جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک اور اُسی کا مال) ہیں۔ اور جو (فرشتے) اُس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کنیاتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں
20يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ
رات دن (اُس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں
21أَمِ اتَّخَذُوا آلِهَةً مِّنَ الْأَرْضِ هُمْ يُنشِرُونَ
بھلا لوگوں نے جو زمین کی چیزوں سے (بعض کو) معبود بنا لیا ہے (تو کیا) وہ ان کو (مرنے کے بعد) اُٹھا کھڑا کریں گے؟
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
19آیت

ترجمہ — انبیاء 19

سورہ انبیاء آیت 19 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں…

سورہ آیت 19/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 17–21. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں