انبیاء · 18/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۚ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ ۝١٨
Bal naqzifu bilhaqqi `alal baatili fa yadmaghuhoo fa izaa huwa zaahiq; wa lakumul wailu mimmaa tasifoon
📖 اردو ترجمہ
بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری ہی خرابی ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • نَقْذِفُ: ہم پھینکتے ہیں، ڈالتے ہیں۔
  • الْحَقّ: سچائی، ایمان، قرآن اور وہ چیز جو اللہ کی طرف سے آئی۔
  • الْبَاطِل: جھوٹ، شرک، کفر اور بے بنیاد باتیں۔
  • فَيَدْمَغُهُ: پس وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے، اسے کچل دیتا ہے۔
  • زَاهِقٌ: ختم ہونے والا، مٹ جانے والا، نیست و نابود۔
  • الْوَيْلُ: ہلاکت، تباہی، عذاب۔
  • تَصِفُونَ: تم بیان کرتے ہو، تم نسبت دیتے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ہم حق کو باطل پر پھینکتے ہیں، یعنی جب باطل اپنی پوری طاقت اور دھوم دھام سے سامنے آتا ہے تو ہم حق کو اس پر ڈال دیتے ہیں، جیسے کوئی مضبوط پتھر کسی کمزور چیز پر پھینکا جائے۔ یہ حق اس باطل کا سر توڑ دیتا ہے، اسے کچل دیتا ہے، اور وہ باطل فوراً ختم ہو جاتا ہے، مٹ جاتا ہے، بالکل ایسے جیسے اندھیرا سورج نکلتے ہی غائب ہو جاتا ہے۔

یہ اللہ کا اٹل قانون ہے کہ حق ہمیشہ غالب آتا ہے اور باطل ہمیشہ مغلوب ہوتا ہے۔ چاہے باطل کتنا ہی بڑا، طاقتور اور پھیلتا ہوا کیوں نہ ہو، حق کے سامنے وہ بس ایک جھٹکے میں مٹ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شرک، کفر اور جھوٹے عقائد کبھی پائیدار نہیں ہوتے، جبکہ توحید اور ایمان ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کو مخاطب کر کے فرماتا ہے: "اور تمہارے لیے ہلاکت ہے ان باتوں کی وجہ سے جو تم بیان کرتے ہو" یعنی تم اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جو اس کی شان کے لائق نہیں، جیسے یہ کہنا کہ اللہ کی اولاد ہے، یا اس کا کوئی شریک ہے، یا وہ اس دنیا کے کھیل کود میں مشغول ہے۔ یہ تمہارے جھوٹے الزامات اور بے بنیاد باتیں ہی تمہارے لیے عذاب اور ہلاکت کا سبب بنیں گی۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ حق کبھی شکست نہیں کھاتا۔ آج دنیا میں کفر، بے دینی اور فحاشی کا طوفان بھی کیوں نہ ہو، اللہ کا وعدہ ہے کہ حق ہی غالب آئے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حق پر مضبوطی سے قائم رہیں، قرآن کو اپنی زندگی میں نافذ کریں، اور یقین رکھیں کہ باطل کی تمام طاقتیں مل کر بھی حق کو ختم نہیں کر سکتیں۔ جس طرح صبح ہوتے ہی رات بھاگ جاتی ہے، اسی طرح حق کے ظاہر ہوتے ہی باطل مٹ جاتا ہے۔ ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہیے اور اللہ کے دین کی خدمت میں لگے رہنا چاہیے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو کامیابی اور سربلندی تک پہنچاتا ہے۔



📜 آیت 16-20 — انبیاء

16وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ
اور ہم نے آسمان اور زمین کو جو اور (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو لہوولعب کے لئے پیدا نہیں کیا
17لَوْ أَرَدْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنَاهُ مِن لَّدُنَّا إِن كُنَّا فَاعِلِينَ
اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن وفرزند) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنالیتے
18بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۚ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری ہی خرابی ہے
19وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِندَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ
اور جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک اور اُسی کا مال) ہیں۔ اور جو (فرشتے) اُس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کنیاتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں
20يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ
رات دن (اُس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
18آیت

ترجمہ — انبیاء 18

سورہ انبیاء آیت 18 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو…

سورہ آیت 18/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 16–20. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں