انبیاء · 36/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ وَهُم بِذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ هُمْ كَافِرُونَ ۝٣٦
Wa izaa ra aakal lazeena kafarooo iny-yattakhizoonaka illa huzuwaa; ahaazal lazee yazkuru aalihatakum wa hum bi zikrir Rahmaani hum kaafiroon
📖 اردو ترجمہ
اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے استہزاء کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے حالانکہ وہ خود رحمٰن کے نام سے منکر ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ہزواً: مذاق، ٹھٹھا، استہزاء۔
  • یذکر آلهتکم: تمہارے معبودوں کا ذکر برائی کے ساتھ کرتا ہے، انہیں برا بھلا کہتا ہے۔
  • بذکر الرحمن: رحمٰن (اللہ) کے ذکر سے، اس کی توحید اور اس کی عبادت سے۔

تفسیر آیت:

اے محبوب رسول! جب کافر آپ کو دیکھتے ہیں تو وہ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں اور ایک دوسرے سے کہتے ہیں: "کیا یہی وہ شخص ہے جو ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے؟" وہ آپ کی ذاتِ گرامی کو طنز کا نشانہ بناتے ہیں، حالانکہ آپ تو انہیں سیدھے راستے کی دعوت دیتے ہیں۔ لیکن افسوس! وہ لوگ خود رحمٰن کے ذکر سے، اس کی توحید سے، اور اس کی نعمتوں سے کفر کرتے ہیں، اور اس کے نازل کردہ قرآن اور ہدایت کو جھٹلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم رحمٰن کو نہیں جانتے، حالانکہ وہی ان کا خالق اور رازق ہے۔

یہ کافروں کی عجیب حالت ہے کہ وہ آپ کو عیب لگاتے ہیں، حالانکہ عیب خود انہیں میں ہے۔ وہ آپ پر طنز کرتے ہیں کہ آپ ان کے بتوں کو برا کہتے ہیں، لیکن وہ خود اللہ رحمٰن کا ذکر سن کر منہ موڑ لیتے ہیں اور اس کی عبادت سے انکار کرتے ہیں۔ کیا یہ بڑی جہالت اور اندھی دشمنی نہیں؟ وہ پتھر کے بتوں کی حمایت میں جل اٹھتے ہیں، لیکن آسمان و زمین کے خالق کے ذکر سے کفر کرتے ہیں۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق پر قائم رہنے والوں کو ہمیشہ مخالفت اور طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ہمیں صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ جس طرح نبی کریم ﷺ نے کافروں کے طعن و مذاق کے باوجود اپنی دعوت جاری رکھی، ہمیں بھی اپنے ایمان پر قائم رہنا چاہیے اور اللہ کے ذکر سے کبھی غافل نہیں ہونا چاہیے۔ یاد رکھیں! دنیا کی ہنسی مذاق عارضی ہے، لیکن اللہ کی رحمت اور اس کا انعام ابدی ہے۔ کافروں کا طعنہ دراصل ان کی کمزوری کی علامت ہے، کیونکہ جب سچائی واضح ہو جائے تو باطل کے پاس ہنسی مذاق کے سوا کوئی حربہ نہیں رہتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے ذکر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اس کی رحمت کے طلبگار رہیں، کیونکہ رحمٰن کا ذکر ہی دل کو سکون بخشتا ہے اور ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 34-38 — انبیاء

34وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۖ أَفَإِن مِّتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ
اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کو بقائے دوام نہیں بخشا۔ بھلا اگر تم مرجاؤ تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے
35كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ۖ وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ اور ہم تو لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں۔ اور تم ہماری طرف ہی لوٹ کر آؤ گے
36وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ وَهُم بِذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ هُمْ كَافِرُونَ
اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے استہزاء کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے حالانکہ وہ خود رحمٰن کے نام سے منکر ہیں
37خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ ۚ سَأُرِيكُمْ آيَاتِي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ
انسان (کچھ ایسا جلد باز ہے کہ گویا) جلد بازی ہی سے بنایا گیا ہے۔ میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تو تم جلدی نہ کرو
38وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعید (ہے وہ) کب (آئے گا)؟
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
36آیت

ترجمہ — انبیاء 36

سورہ انبیاء آیت 36 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے…

سورہ آیت 36/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 34–38. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں