ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ذَائِقَةُ: چکھنے والی، تجربہ کرنے والی۔
- نَبْلُوکُم: ہم تمہیں آزماتے ہیں۔
- فِتْنَۃً: آزمائش، امتحان۔
- تُرْجَعُونَ: تم لوٹائے جاؤ گے۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی حقیقت بیان فرمائی ہے جس سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کر سکتا، اور وہ ہے موت کا ذائقہ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ہر نفس موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے — خواہ وہ مومن ہو یا کافر، امیر ہو یا غریب، بادشاہ ہو یا رعایا۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی مسلّمہ حقیقت ہے کہ جس نے بھی جنم لیا ہے اسے ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے، چاہے وہ کتنی ہی لمبی عمر کیوں نہ پائے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور ہم تمہیں آزماتے ہیں برائی اور بھلائی کے ساتھ، ایک آزمائش کے طور پر۔" یعنی یہ دنیا کی زندگی دراصل ایک امتحان گاہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہاں اس لیے نہیں بھیجا کہ وہ صرف کھائے پئے اور مزے کرے، بلکہ اسے مختلف حالات سے گزار کر آزمایا جاتا ہے۔ کبھی اسے خوشحالی اور راحت دی جاتی ہے، کبھی تنگی اور مصیبت میں ڈالا جاتا ہے۔ کبھی اسے صحت عطا ہوتی ہے تو کبھی بیماری، کبھی عزت ملتی ہے تو کبھی ذلت، کبھی دولت ہاتھ آتی ہے تو کبھی فقر و فاقہ۔ یہ سب کچھ اسی لیے ہے کہ دیکھا جائے کہ انسان خوشحالی میں شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا؟ اور مصیبت میں صبر کرتا ہے یا بے صبری اور شکایت کرتا ہے؟ یہ آزمائش اللہ کے ہاں بہت اہم ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندہ حقیقی طور پر اپنے رب کا وفادار ہے یا نہیں۔
آخر میں فرمایا: "اور تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔" یعنی موت کے بعد ختم نہیں ہو جانا، بلکہ ایک نیا سفر شروع ہوگا۔ تم سب کو اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے، اور جو کچھ تم نے اس دنیا میں کیا ہے، اس کا پورا پورا حساب دینا ہے۔ نیکی کا بدلہ نیکی اور برائی کا بدلہ برائی — یہ اللہ کا وعدہ ہے جو یقیناً پورا ہوگا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں بہت اہم سبق دیتی ہے۔ جب ہمیں معلوم ہے کہ ایک دن ہمیں اس دنیا سے جانا ہے اور اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے، تو پھر ہمیں اپنی زندگی کو اسی حساب سے گزارنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ خوشحالی میں اللہ کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کو اس کی رضا کے مطابق استعمال کریں، اور مصیبت میں صبر کریں اور اللہ سے امید وابستہ رکھیں۔ یاد رکھیں! یہ دنیا کی آزمائشیں عارضی ہیں، لیکن ان کا نتیجہ ابدی ہے۔ جو شخص ان آزمائشوں میں کامیاب ہو جائے گا، اس کے لیے جنت کی دائمی نعمتیں ہیں، اور جو ناکام ہو جائے گا، اس کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی آزمائشوں میں کامیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 33-37 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 35
سورہ انبیاء آیت 35 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ اور ہم…سورہ آیت 35/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 33–37. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








