ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَفَهَّمْنَاهَا: ہم نے وہ فیصلہ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا۔
- حُکْمًا: نبوت اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت۔
- عِلْمًا: دین اور شریعت کا علم۔
- سَخَّرْنَا: ہم نے مسخر کر دیا، تابع بنا دیا۔
- یُسَبِّحْنَ: اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے ایک واقعے کا ذکر فرمایا ہے، جب ایک شخص کی بکریوں نے رات کے وقت دوسرے شخص کے کھیت کو چر لیا تھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے فیصلہ دیا کہ بکریاں کھیت والے کو دے دی جائیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس سے بہتر اور منصفانہ فیصلہ سمجھا دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ بکریاں کھیت والے کو دی جائیں تاکہ وہ ان کے دودھ، اون اور بچوں سے فائدہ اٹھائے، اور کھیت بکریوں کے مالک کو دیا جائے تاکہ وہ اسے دوبارہ آباد کرے۔ جب کھیت اپنی اصل حالت میں آ جائے تو دونوں اپنی اپنی چیزیں واپس لے لیں۔ یہ فیصلہ دونوں فریقوں کے لیے عدل اور انصاف پر مبنی تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے دونوں (داؤد اور سلیمان علیہما السلام) کو حکم اور علم عطا کیا تھا، یعنی دونوں نبی تھے اور دونوں کو شریعت کا علم تھا، لیکن اس خاص معاملے میں سلیمان علیہ السلام کو زیادہ بہتر سمجھ عطا کی گئی۔ یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی ایک اور عظیم نعمت کا ذکر کیا کہ ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کر دیا تھا، جو ان کے ساتھ مل کر اللہ کی تسبیح کرتے تھے۔ جب حضرت داؤد علیہ السلام تسبیح کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی ان کی آواز میں شامل ہو جاتے۔ یہ اللہ کی قدرت کا ایک عظیم مظاہرہ تھا، اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم یہ سب کچھ کرنے والے ہیں، یعنی ہماری قدرت کامل ہے اور ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ فیصلہ کرتے وقت عدل اور انصاف کو مدنظر رکھنا چاہیے، اور دونوں فریقوں کی مصلحت کا خیال رکھنا چاہیے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا فیصلہ اس بات کی عمدہ مثال ہے کہ حکمت اور دانائی سے کیسے مشکل مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو خصوصی فضل اور علم عطا کرتا ہے، لیکن یہ فضل محنت اور تقویٰ کے بغیر نہیں ملتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ سے علم اور حکمت کی دعا کریں، اور اپنے معاملات میں انصاف کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ اللہ کی قدرت کامل ہے، وہ پہاڑوں اور پرندوں تک کو اپنے نبیوں کے تابع کر سکتا ہے۔ ہمیں اللہ کی عظمت اور قدرت پر ایمان رکھنا چاہیے، اور اس کی تسبیح اور ذکر کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ جب ہم اللہ کا ذکر کریں گے تو ہمارے دلوں کو سکون ملے گا، اور ہماری زندگیوں میں برکتیں نازل ہوں گی۔
آئیے ہم انبیاء علیہم السلام کی سیرت سے سبق حاصل کریں، اور اپنی زندگیوں کو عدل، علم اور اللہ کے ذکر سے روشن کریں۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 77-81 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 79
سورہ انبیاء آیت 79 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ہم نے فیصلہ (کرنے کا طریق) سلیمان کو سمجھا…سورہ آیت 79/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 77–81. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








