خدا تو مومنوں سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا رہتا ہے۔ بےشک خدا کسی خیانت کرنے والے اور کفران نعمت کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یُدَافِعُ: دفع کرتا ہے، ٹال دیتا ہے، حفاظت کرتا ہے۔
خَوَّانٍ: بہت زیادہ خیانت کرنے والا، امانت میں خیانت کرنے والا۔
کَفُورٍ: بہت زیادہ ناشکری کرنے والا، کفرانِ نعمت کرنے والا، اللہ کی نعمتوں کا انکار کرنے والا۔
تفسیرِ آیت:
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے ساتھ بے پناہ شفقت اور محبت رکھتا ہے۔ وہ خود اپنے ان بندوں کی حفاظت کا ذمہ لیتا ہے جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ دفاع صرف جسمانی حملوں سے نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے دشمنوں کے مکر و فریب، ان کی چالوں اور سازشوں کو بھی دور فرماتا ہے۔ کبھی وہ دشمنوں کے دل میں رعب ڈال دیتا ہے، کبھی ان کے منصوبے ناکام بنا دیتا ہے، اور کبھی ان کے شر کو خود ہی ان پر لوٹا دیتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو اس نے اپنے مومن بندوں سے کیا ہے، اور اللہ کا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا۔
پھر اللہ تعالیٰ اس دفاع کی حکمت بیان فرماتا ہے کہ اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو امانت میں خیانت کرتے ہیں اور نعمتوں کا کفران کرتے ہیں۔ یعنی جو لوگ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو پہچانتے نہیں، ان کا شکر ادا نہیں کرتے، اور اللہ کے ساتھ شرک کرکے اس کی نافرمانی کرتے ہیں، وہ اللہ کی محبت سے محروم ہیں۔ اللہ کی محبت صرف انہیں حاصل ہوتی ہے جو ایمان لاتے ہیں، شکر گزار بندے ہوتے ہیں، اور اپنے رب کے ساتھ وفاداری نبھاتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے۔ جب ہم ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی راہ پر چلتے ہیں تو اللہ خود ہماری حفاظت کا ذمہ لیتا ہے۔ ہمیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، چاہے ساری دنیا ہمارے خلاف ہو جائے۔ اللہ کا دفاع ہمارے ساتھ ہے۔ لیکن یاد رکھیں، یہ دفاع ایمان اور شکرگزاری کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر ہم اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کریں گے، اس کی اطاعت سے منہ موڑیں گے، تو ہم اس محبت اور حفاظت سے محروم ہو جائیں گے۔ آئیے ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اللہ کے شکر گزار بندے بنیں، اور اس کی امانت کو سنبھالیں تاکہ اللہ کی حفاظت اور محبت ہمارے شامل حال رہے۔ اللہ ہمیں اپنے مومن اور شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے شعائر خدا مقرر کیا ہے۔ ان میں تمہارے لئے فائدے ہیں۔ تو (قربانی کرنے کے وقت) قطار باندھ کر ان پر خدا کا نام لو۔ جب پہلو کے بل گر پڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ۔ اس طرح ہم نے ان کو تمہارے زیرفرمان کردیا ہے تاکہ تم شکر کرو
خدا تک نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون۔ بلکہ اس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے۔ اسی طرح خدا نے ان کو تمہارا مسخر کر دیا ہے تاکہ اس بات کے بدلے کہ اس نے تم کو ہدایت بخشی ہے اسے بزرگی سے یاد کرو۔ اور (اے پیغمبر) نیکوکاروں کو خوشخبری سنا دو
جن مسلمانوں سے (خواہ مخواہ) لڑائی کی جاتی ہے ان کو اجازت ہے (کہ وہ بھی لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم ہو رہا ہے۔ اور خدا (ان کی مدد کرے گا وہ) یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے
یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے (انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا) ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدا ہے۔ اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں۔ اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بےشک خدا توانا اور غالب ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔