مؤمنون · 18/118
ترجمہ تلفظ — مؤمنون
وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَأَسْكَنَّاهُ فِي الْأَرْضِ ۖ وَإِنَّا عَلَىٰ ذَهَابٍ بِهِ لَقَادِرُونَ ۝١٨
Wa anzalnaa minas samaaa`i maaa`am biqadarin fa-askannaahu fil ardi wa innaa `alaa zahaabim bihee laqaa diroon
📖 اردو ترجمہ
اور ہم ہی نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی نازل کیا۔ پھر اس کو زمین میں ٹھہرا دیا اور ہم اس کے نابود کردینے پر بھی قادر ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

اللہ رب العزت نے اس آیت میں اپنی قدرت اور رحمت کی نشانی بیان فرمائی ہے۔

پہلے چند اہم الفاظ کے معانی:

  • بِقَدَرٍ: اندازے کے ساتھ، مقدار کے مطابق، ضرورت کے بقدر
  • فَأَسْكَنَّاهُ: پھر ہم نے اسے ٹھہرا دیا، قیام پذیر کر دیا
  • ذَهَابٍ بِهِ: اسے لے جانا، اس کا غائب کر دینا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنی عظیم قدرت اور حکمت کا ذکر فرماتا ہے کہ ہم نے آسمان سے پانی اتارا، لیکن یہ پانی بے تحاشا نہیں برساتے بلکہ ایک خاص اندازے اور مقدار کے ساتھ اتارتے ہیں۔ نہ اتنا زیادہ کہ زمین کو تباہ کر ڈالے اور نہ اتنا کم کہ لوگوں کی ضروریات پوری نہ ہوں۔ یہ مقدار اللہ کے علم و حکمت کے مطابق ہوتی ہے جو مخلوق کی ضرورت کے عین مطابق ہوتی ہے۔

پھر اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے اس پانی کو زمین میں ٹھہرا دیا، یعنی زمین کی تہوں میں جذب کر کے اسے ذخیرہ کر دیا، تاکہ چشمے، کنویں اور نہریں اس سے جاری ہوں اور لوگ اپنی ضرورت کے وقت اس سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت ہے کہ وہ پانی کو زمین میں محفوظ رکھتا ہے ورنہ بارش کا پانی بہہ جاتا اور کچھ فائدہ نہ دیتا۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک اہم تنبیہ فرماتا ہے کہ ہم اس پانی کو غائب کر دینے پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اسے زمین کی گہرائیوں میں اتار دیں یا اسے خشک کر دیں، یا اسے نمکین بنا دیں، یا اسے اس طرح غائب کر دیں کہ کوئی اس تک نہ پہنچ سکے۔ یہ ایک سخت تہدید اور وعید ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی نعمتوں کو بھول جاتے ہیں اور نافرمانی پر اڑے رہتے ہیں۔

یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم روزانہ جو پانی پیتے ہیں، وہ اللہ کی کتنی بڑی رحمت ہے۔ اگر اللہ چاہے تو یہی پانی ہمارے لیے زہر بن جائے یا زمین سے غائب ہو جائے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی ان نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں۔ نیز یہ آیت ہمیں اللہ کی قدرت کا احساس دلاتی ہے کہ وہی ہے جو پانی اتارتا ہے، زمین میں محفوظ کرتا ہے اور اسی کی مشیت سے وہ باقی رہتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور اس کی نعمتوں کو پہچان کر اس کی عبادت میں مشغول رہنا چاہیے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 16-20 — مؤمنون

16ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ
پھر قیامت کے روز اُٹھا کھڑے کئے جاؤ گے
17وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِينَ
اور ہم نے تمہارے اوپر (کی جانب) سات آسمان پیدا کئے۔ اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں
18وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَأَسْكَنَّاهُ فِي الْأَرْضِ ۖ وَإِنَّا عَلَىٰ ذَهَابٍ بِهِ لَقَادِرُونَ
اور ہم ہی نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی نازل کیا۔ پھر اس کو زمین میں ٹھہرا دیا اور ہم اس کے نابود کردینے پر بھی قادر ہیں
19فَأَنشَأْنَا لَكُم بِهِ جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ لَّكُمْ فِيهَا فَوَاكِهُ كَثِيرَةٌ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ
پھر ہم نے اس سے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغ بنائے، ان میں تمہارے لئے بہت سے میوے پیدا ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو
20وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِن طُورِ سَيْنَاءَ تَنبُتُ بِالدُّهْنِ وَصِبْغٍ لِّلْآكِلِينَ
اور وہ درخت بھی (ہم ہی نے پیدا کیا) جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے (یعنی زیتون کا درخت کہ) کھانے کے لئے روغن اور سالن لئے ہوئے اُگتا ہے
مؤمنونقرآن فہرست
118آیت
مکیRevelation
18آیت

ترجمہ — مؤمنون 18

سورہ مؤمنون آیت 18 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم ہی نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ…

سورہ آیت 18/118 — مؤمنون المؤمنون (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مؤمنون سنیں, مؤمنون ترجمہ, مؤمنون mp3, مؤمنون pdf. آیت 16–20. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں